رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر ایجنسی میں ممکنہ آپریشن سے قبل قبائیلوں کو نقل مکانی کی ہدایت


خیبر ایجنسی میں ممکنہ آپریشن سے قبل قبائیلوں کو نقل مکانی کی ہدایت

افغان سرحد سے ملحقہ خیبرایجنسی میں حالیہ ہفتوں میں مشتبہ طالبان عسکریت پسندوں کی تخریبی کارروائی میں اضافہ ہوا ہے جو مقامی حکام کے لیے بظاہر ایک پریشان کن صورت حال ہے کیوں کہ اس علاقے میں فرنٹیئر کور کے اہلکار کئی بڑے آپریشنز کر چکے ہیں۔

جمعرات کو ملک دین خیل نامی علاقے میں شدت پسندوں نے گھات لگا کر ایک فوجی قافلے پر اچانک حملہ کر دیا تھا جس میں ایک افسر سمیت ایف سی کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جب کہ جوابی کارروائی میں 34 جنگجو مارے گئے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عسکریت پسند دو ایف سی اہلکاروں کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے۔

اس واقعہ کے بعد علاقے میں جمعہ کو صورت حال بدستور کشیدہ رہی اور فرنٹیئر کور کے دستے علاقے میں شدت پسندوں کی تلاش کے لیے چھاپے مارتے رہے۔

فرنٹیئر کور کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’’خیبر ایجنسی کے ملک دین خیل اور اس سے ملحقہ قصبوں کے باشندوں کو محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘‘

تاہم انھوں نے ان علاقوں میں فوری طور پر کسی بڑے آپریشن کے شروع کیے جانے کی اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اورکزئی اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنز کے بعد وہاں سے فرار ہونے والے شدت پسندوں نے خیبر ایجنسی کے بعض علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

لیکن ایف سی کے عہدیدار نے بتایا کہ ’’میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا کہ یہاں شدت پسند کس علاقے سے آئے، لیکن قبائلی علاقوں کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اور یہ (دہشت گرد) ایک سے دوسرے علاقے میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ تو حقیقت ہے کہ دہشت گرد مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔‘‘

خیبر ایجنسی میں عسکریت پسندوں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ایک ایسے روز ہوئیں جب امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن پاکستانی قیادت سے اہم مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچی تھیں جہاں اُنھوں نے پاک افغان سرحد کی دونوں جانب موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے عزم کو دہرایا۔

XS
SM
MD
LG