رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس سے تحفظ، خیبرپختونخوا کا اہم اقدامات کا اعلان


کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لوگ ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی حکومت نے کرونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے اور صوبے میں اس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو وائرس کے حملے سے بچانے کے ساتھ ساتھ انہیں اس بارے میں افوائیوں اور خوف و ہراس سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کی قیادت میں ہونے والے اجلاس کے بعد ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لیوی سینٹر شاہ کس میں 150بستروں کا علیحدہ مرکز قائم کیا جائے گا اور پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ طورخم بارڈر کے راستے ملک میں داخل ہونے والے ایسے پاکستانیوں کو، جن پر وائرس میں مبتلا ہونے کا شبہ ہو، اس سینٹر میں منتقل کر دیا جائے۔

تمام تدریسی اور انتظامی اداروں کے اہل کاروں کو ڈیوٹی پر آنے سے روک دیا گیا ہے، سوائے میڈیکل کالجز اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے اس عملے کے، جو مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے درکار ہوتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق تمام دفاتر کے غیر ضروری عملے کو 15 روز کے لیے چھٹی دے دی گئی ہے۔ جب کہ خواتین، شوگر، دل اور دوسرے امراض میں مبتلا اور 50 سال سے زیادہ عمر کے اہل کاروں کو بھی 15 روز کے لیے حاضری سے استثنی کر دیا گیا ہے۔

یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ دفاتر میں آنے والے لوگوں کے مسائل استقبالیہ پر ہی حل کر دیے جائیں۔ عام لوگوں کے دفاتر میں داخلے پر 15 روز کے لیے پابندی لگا دی گئی ہے۔

شادی بیاہ اور دیگر تقریبات اور اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام مساجد کے ساتھ بھی رابطہ کریں گے تاکہ لوگوں کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے ان سے مشاورت کے ساتھ عبادات کے انتظامات کیے سکیں۔

اس موقع پر ضروری اشیائے خوراک کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ نجی زندگی میں اجتماعات سے گریز کریں اور ایک دوسرے سے رابطے کے وقت فاصلہ رکھیں تاکہ وائرس کی منتقلی کے امکان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG