رسائی کے لنکس

logo-print

خيبرپختونخوا کے پانچ درياؤں پرڈيجيٹل ٹيلی ميٹری سسٹم نصب


دریائے سوات سمیت دیگر دریاؤں اور نہروں پر پانی کے بہاؤ کے اعداد وشمار معلوم کرنے کے لیے نیا نظام نصب کیا گیا ہے — فائل فوٹو

پاکستان کی تاريخ ميں پہلی مرتبہ صوبہ خيبر پختونخوا ميں پانچ درياؤں اور دو نہروں پر خود کار ڈيجيٹل ٹيلی ميٹری نظام نصب کر ديا گيا ہے۔

خيبرپختونخوا کے محکمہ ريليف بحالی و آباد کاری کے مطابق صوبائی ڈيزاسٹر مينیجمنٹ اتھارٹی کے زيرانتظام صوبائی ايمرجنسی آپريشن سینٹر کے تحت اس منصوبے پر 6 کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔

محکمہ ريليف بحالی و آباد کاری کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام امريکہ سے درآمد کيا گيا ہے۔

يہ خود کار ٹيلی ميٹری نظام مردان میں جلالہ پل پر کلپانی نالہ پر، لوئر دیر میں دریائے سوات کے چکدرہ اور خوازہ خيلہ پُل پر، شبقدر میں منڈا ہيڈ ورکس پر، اپر دیر میں دريائے پنجکوڑہ کے جبالوٹ پُل پر، پشاور میں بڈھنی نالہ اور چارسدہ میں دریائے کابل کے اديزی پُل پر نصب کيے گئے ہیں۔

اس نظام کے ذریعے درياؤں ميں سيلابی صورت حال، پانی کا بہاؤ اور سطح سے متعلق بر وقت معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ يہ منصوبہ ملک بھر ميں اپنی نوعيت کا منفرد منصوبہ ہے۔ جو ديگر صوبوں کے لیے ايک رول ماڈل کی حيثيت رکھتا ہے۔

صوبائی ڈيزاسٹر مينیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان انور شہزاد کے مطابق نئے نظام سے درياؤں اور نالوں پر تشويشناک صورت حال پیدا ہونے سے پہلے ہی تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو بروقت مطلع کیا جا سکے گا۔

وائس آف امريکہ سے گفتگو میں انور شہزاد نے بتايا کہ نصب شدہ نظام کو موبائل فون اور کمپيوٹر سے کنٹرول کيا جاتا ہے۔

ان کے مطابق پہلے اس سسٹم کو آزمائشی بنيادوں پرنصب کيا گيا تھا۔ تاہم ڈيجيٹل ٹيلی ميٹری سسٹم کی کاميابی کے بعد اب اسے پورے صوبے کے ندی نالوں پر نصب کیا جا رہا ہے۔ جس سے صوبے بھر ميں سيلابی صورت حال سے متعلق پيشگی اور بر وقت اطلاع سے نقصانات کو کم کرنے ميں مدد ملے گی۔

پاکستان کا شمار ماحولياتی تبديلی سے شدید متاثرہ ممالک ميں ہوتا ہے اور يہی وجہ ہے کہ ناگہانی آفات اور سيلابی ريلوں سے شہريوں کے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

خيبرپختونخوا ميں 2010 میں سيلاب سے نہ صرف مختلف علاقے مکمل طور پر زير آب آگئے تھے بلکہ ہزاروں خاندان نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے تھے۔

خیبر پختونخوا کے ڈائريکٹر موسميات سيد مشتاق علی شاہ نے وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خود کار ٹيلی ميٹری منصوبے پر سال 2010 سے کام جاری تھا کيونکہ اس تباہ کن سيلاب کے بعد سے ڈپارٹمنٹ کے پاس بہت ساری جگہوں کا ڈيٹا نہیں تھا۔ تاہم اب اس نظام سے يہ اندازہ لگايا جا سکے گا کہ کتنے ملی ميٹر بارش ہوئی۔ جبکہ بارش کے بعد پانی کون کونسی نہروں اور درياؤں ميں شامل ہوا۔

ڈائريکٹر موسميات کے مطابق اس نظام کے نصب کیے جانے کے بعد اب انہيں بارش کے پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار فوری معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ بارش کی مقدار ريکارڈ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ان کے بقول اس نظام کے تحت ضلعی انتظاميہ، وزارت آب پاشی اور صوبائی ڈيزاسٹر مینيجمنٹ اتھارٹی سمیت زير آب یا نشیبی علاقوں مثلاً پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے مکينوں کو بر وقت آگاہ کيا جا سکے گا تاکہ وہ بغير کسی جانی نقصان کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکيں۔

سيد مشتاق علی شاہ کے مطابق صوبہ خيبر پختونخوا موسمياتی تبديلی کی زد ميں ہے۔ اگر گزشتہ 20 سال کے اعداد و شمار کا جائزہ ليا جائے تو موسمياتی تبديلی کے باعث مختلف علاقوں ميں سيلابی ريلوں اور آندھيوں کی وجہ سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔

ان کے مطابق حکومت اس ضمن ميں زيادہ سے زيادہ جنگلات لگانے ميں مصروف ہے۔ جس سے آنے والے سالوں ميں ممکنہ تيز سيلابی ريلوں کو روکا جاسکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG