رسائی کے لنکس

logo-print

پولیس افسر طاہر داوڑ کی لاش افغانستان سے ملنے کی تصدیق


طاہر خان داوڑ کی لاش جلال آباد میں پاکستانی سفارتکاروں کے حوالے کرنے کے بعد ریڈ کراس کی ایمبولینس کے ذریعے پشاور منتقل کی جا رہی ہے

اسلام آباد سے اغوا کئے جانے والے پشاور پولیس کے عہدیدار طاہر داوڑ کی میت افغانستان کے سرحدی شہر جلال آباد میں پاکستان کے سفارتکاروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ادھر، اسلام آباد اور کابل میں وزارت خارجہ کے دفاتر نے بھی طاہر خان داوڑ کی لاش ملنے کی تصدیق کی ہے۔

اب طاہر خان کی میت جلال آباد سے پشاور منتقل کی جا رہی ہے۔

وزیرستان جرگہ کے سربراہ سمیع اللہ داوڑ نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ طاہر خان داوڑ کی لاش جلال آباد میں پاکستانی سفارتکاروں کے حوالے کرنے کے بعد ریڈ کراس کی ایمبولینس کے ذریعے پشاور منتقل کی جا رہی ہے۔

سمیع اللہ داوڑ نے کہا کہ طاہر خان کی تجہیر و تدفین پشاور کے حیات آباد میں ہوگی۔

طاہر خان داوڑ کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا اور ان کو پچھلے 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا۔ شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی اور پختون تحفظ تحریک کے بانی رکن محسن داوڑ نے ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ بات چیت میں طاہر خان داوڑ کے اغوا اور بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں ریاست سے جواب ضرور مانگیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’پچھلے 15 سال سے دی جانے والی وضاحتیں اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتیں‘‘۔

اسلام آباد میں وزرات خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طاہر خان داوڑ کی لاش جلال آباد میں پاکستانی سفارتکاروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ بیان کے مطابق طاہر خان داوڑ کو سرحدی صوبے ننگرہار کے ایک دور افتادہ علاقے دوربابا میں قتل کیا گیا، جہاں سے اُن کی لاش ملی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل میں پاکستانی سفارتکار اس مسئلے پر افغان حکام کے ساتھ برابر رابطے میں ہیں۔

کابل میں بھی افغان وزرات خارجہ نے اسلام آباد سے اغوا کئے جانے والے پولیس افسر کی لاش ملنے اور اسے پاکستانی سفارتکاروں کے حوالے کرنے کی تصدیق کی ہے۔

طاہر خان داوڑ کی تشدد زدہ لاش ان کے سرکاری کارڈ اور لاش کے ساتھ ہاتھ سے لکھی گئی تحریر کی تصاویر سماجی رابطے کے ویب سائٹس پر منگل کی سہہ پہر شائع ہوئے۔ ہاتھ سے لکھی گئی تحریر میں کسی گروپ یا فرد کا نام تو نہیں تھا۔ تاہم، اس میں ولایت خراسان کے الفاظ درج تھے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بیان کے ذریعے طاہر خان داوڑ کے قتل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور اسی قسم کی خبریں ایک اور عسکریت پسند تنظیم داعش سے بھی منسوب کی جارہی ہیں۔

ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے پولیس افسر طاہر خان داوڑ کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

طاہر خان داوڑ کی لاش افغانستان کے جس علاقے سے ملی ہے وہاں پر پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی سرحد کے بارے میں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس پر غیر قانونی آمد و رفت کو مکمل طور پر روکا جا چکا ہے، جبکہ مقررہ سرحدی گزرگاہوں پر بغیر ویزہ پاسپورٹ کے آنے جانے پر پچھلے دو سالوں سے مکمل طور پر پابندی عائد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG