رسائی کے لنکس

پشاور ہائی کورٹ: توہینِ مذہب کے ملزم کو قتل کرنے والا ملزم کم سن قرار


فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سیٹھ وقار احمد نے عدالت کے اندر قتل کے مقدمے میں ملوث ملزم کے کیس کی سماعت جوینائل ایکٹ کے تحت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

ملزم فیصل عرف خالد پر 29 جولائی کو پشاور کے ایک ایڈیشنل سیشن جج کے عدالت میں احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے زیرِ حراست ملزم طاہر نسیم کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

قتل کیے جانے والے ملزم طاہر نسیم کو اپریل 2018 میں توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مقتول ملزم طاہر نسیم امریکی شہری تھا۔ امریکہ نے بھی طاہر نسیم کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سیٹھ وقار کی عدالت میں ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ اس مقدمے کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نمبر تین سے کسی اور عدالت منقتل کیا جائے۔

وکیل نے بتایا کہ عدالت نے سرٹیفیکٹ کی بنیاد پر ملزم فیصل کو جوینائل یعنی نابالغ تسلیم نہیں کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت نے تعلیمی اسناد کو چالان کا حصہ بنانے کے باوجود ملزم کی عمر کی تعین کے لے کیس میڈیکل بورڈ کو بھیج دیا ہے۔

وکیل صفائی شبیر گگیانی ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ملزم فیصل کے مقدمے کو میڈیکل بورڈ کو بھیج دیا تھا جس پر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول کے کاغذات کے مطابق وقوع کے وقت ملزم خالد کی عمر 18 سال سے کم تھی۔ اسی بنیاد پر پشاور ہائی کورٹ نےان کے مؤقف سے اتفاق کیا ہے۔

چناب نگر میں احمدی برادری کے ایک رہنما نے رابطے کرنے پر بتایا کہ ان کا ادارہ یا برادری اس مقدمے کی پیروی نہیں کر رہی۔ یہ عدالت کا فیصلہ ہے ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

طاہر نسیم کے بعد احمدی برادری کے ایک اور شخص معراج احمد کو بھی ڈبگری پشاور میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔

اس حوالے سے احمدی جماعت کے عہدیدار کہتے ہیں کہ وہ معراج احمد کے قتل کی پیروی کر رہے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کے ایک سینئر وکیل طارق افغان نے پشاور ہائی کورٹ کے اس حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملزم کو ضرور فائدہ ہو گا۔ کیوں کہ کم سن ملزمان کو یہ کہہ کر کہ کسی نے ورغلایا ہے یا اس سے غلطی ہوئی ہے، کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ملزم خالد عرف فیصل کے علاوہ قتل کے اس مقدمے میں ایک وکیل اور ایک مذہبی شخصیت بھی سہولت کار کی حیثیت سے گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

مذہبی شخصیت مفتی وسیع اللہ نے ملزم خالد کے وکیل کے ذریعے عدالت کے اندر پستول دینے کا اعترافِ جرم بھی کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG