رسائی کے لنکس

logo-print

'کلنگ فیلڈز آف کراچی' نمائش کیوں بند کرائی گئی؟


اتوار کے روز ہونے والی 'کلنگ فیلڈز آف کراچی' کے نام سے فن پاروں کی نمائش کراچی کے فریئر ہال میں منعقد کی گئی تھی۔

فن اور ثقافت کو اجاگر کرنے والی دوسری 'کراچی بینالے' نمائش میں 'ماورائے عدالت قتل' کے موضوع پر تیار کیے گئے فن پاروں کی نمائش بند کرا دی گئی ہے۔

اتوار کے روز ہونے والی 'کلنگ فیلڈز آف کراچی' کے نام سے فن پاروں کی نمائش کراچی کے فریئر ہال اور اس سے منسلک پارک میں منعقد کی گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نمائش کے ذریعے ملک اور شہر کا خراب تاثر پیش کیا جارہا تھا۔ ایسے فن پاروں کی نمائش کی اجازت پبلک پارکس میں نہیں دی جاسکتی۔

ادھر انسانی حقوق سے وابستہ کارکنوں نے اس اقدام کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو اظہار رائے پر پابندی سے تعبیر کیا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب فائن آرٹس کی تعلیم دینے والے ادارے ‘انڈس ویلی اسکول آف آرٹس اینڈ آرکیٹیکچر’ سے تعلق رکھنے والی مجسمہ ساز عدیلہ سلیمان کے فن پاروں کی نمائش جاری تھی۔

عدیلہ سلیمان نے شہر میں مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل اور جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے 444 افراد کے قتل پر روشنی ڈالنے کے لیے آرٹ کا سہارا لیا تھا۔

انہوں نے ہلاک افراد کی علامتی قبریں بنائی تھیں اور بعض قبروں پر سوکھے پھول اور بعض پر چند ایک تصاویر نمایاں کی گئی تھیں۔

فن اور ثقافت کو اجاگر کرنے والی نمائش میں 'ماورائے عدالت قتل' کے موضوع پر تیارکیے گئے فن پاروں کی نمائش کی گئی تھی۔
فن اور ثقافت کو اجاگر کرنے والی نمائش میں 'ماورائے عدالت قتل' کے موضوع پر تیارکیے گئے فن پاروں کی نمائش کی گئی تھی۔

'میں نے تو صرف جذبات کی ترجمانی کی'

آرٹسٹ عدیلہ سلیمان کے مطابق اتوار کی صبح دس بجے سے نمائش جاری تھی اور یہاں آنے والے لوگ ان کی اس موضوع پر بنائی گئی دستاویزی فلم اور ان فن پاروں کے کام کو کافی سراہ رہے تھے۔ اچانک کچھ لوگ آئے اور کہا کہ اس نمائش اور دستاویزی فلم کو فوراً بند کیا جائے اور انتظامیہ سے کہہ کر دستاویزی فلم بھی بند کرا دی گئی۔

عدیلہ کے مطابق اُنہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون لوگ تھے اور قانون نافذ کرنے والی کس ایجنسی سے اُن کا تعلق تھا کیونکہ وہ عام کپڑوں میں ملبوس تھے۔

انہوں نے کہا کہ بطور آرٹسٹ وہ یہ محسوس کرسکتی ہیں کہ یہ وہ مثال ہے کہ آرٹ کی کتنی طاقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ‘میں نے تو صرف جذبات کے ساتھ ترجمانی کی’۔

مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کیے گئے نقیب اللہ محسود کے والد خان محمد پر بنائی گئی ان کی دستاویزی فلم میں ایک بھی ڈائیلاگ نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک خاموش فلم ہے۔

عدیلہ کا کہنا ہے "میں نے دستاویزی فلم میں ایسا کچھ نہیں بتایا کہ جو نیا ہو۔ اس بارے میں سب کو سب کچھ معلوم ہے۔"

اُن کا مزید کہنا ہے کہ اُن کے فن پاروں پر رائے قائم کرنے کا حق عوام پر چھوڑنا چاہیے۔ شہری اتنے سمجھدار ہیں کہ وہ اس بارے میں اپنی رائے خود قائم کرسکتے ہیں۔

عدیلہ کے مطابق آرٹسٹ اپنے احساسات کے ساتھ بات کرتے ہیں اور اُن کے فن پاروں کا مقصد ایک سال قبل جو کچھ کراچی میں ہوا تھا اس کہانی کو دہرانا تھا۔ اگر آرٹسٹ اپنی سوچ کا اظہار نہیں کرسکتے تو وہ نہیں جانتی کہ آرٹ کیسے بنے گا اور اس کے لیے کس کی اجازت ضروری ہوگی۔

کیا ریاست راؤ انوار کے پیچھے کھڑی ہے؟

انتظامیہ کی جانب سے زبردستی دستاویزی فلم اور فن پاروں کی نمائش بند کرنے کے بعد سول سوسائٹی کے کارکن اور وکیل جبران ناصر نے فرئیر ہال کے باہر واقع پارک میں پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ایسی نمائشوں میں دنیا بھر کے فنکاروں کو مدعو کیا جاتا ہے۔

نمائش میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلوں مارے جانے والے 444 افراد کے علامتی کتبے بھی رکھے گئے تھے۔ جن کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اس پولیس افسر کے ہاتھوں ناحق لوگ قتل کیے گئے اور اس بارے میں محکمہ پولیس کی اپنی رپورٹ بطور ثبوت موجود ہے۔

سول سوسائٹی کے ارکان کے مطابق کچھ افراد جنہوں نے اپنا تعارف حساس اداروں کے اہلکاروں کے طور پر کرایا تھا۔ نمائش میں آکر کہا کہ اس نمائش کو فوری بند کیا جائے۔ ورنہ یہاں لگایا گیا پراجیکٹر، لیپ ٹاپ، پینٹنگز اور دیگر سامان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔

ادھر نقیب اللہ قتل کیس میں مدعی اور نقیب اللہ کے والد محمد خان کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ریاست پوری طرح راؤ انوار اور ان جیسے کرداروں کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور آرٹسٹ کی آواز کو دبانے کا مطلب بالکل واضح ہے کہ جو ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا تو اُسے بولنے نہیں دیا جائے گا۔

فیصل صدیقی نے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے ہمارے حوصلے پست ہوں گے اور نہ ہی ہماری مزاحمت رکے گی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ راؤ انوار کو سزا ملے گی چاہے اس کے لیے ہمیں دس بیس سال بھی لڑنا پڑے۔

'یہ آرٹ نہیں تخریب کاری ہے'

ابھی سول سوسائٹی کے ارکان کی پریس کانفرنس جاری ہی تھی کہ ڈائریکٹر جنرل پارکس، بلدیہ عظمیٰ کراچی آفاق مرزا خود وہاں پہنچے اور میڈیا کے مائیکس اور وہاں موجود ڈائس ہٹا کر پریس کانفرنس ختم کرنے کا کہا۔

آفاق مرزا کا کہنا تھا کہ اس پارک میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس موقع پر ان کی سول سائٹی کے ارکان سے تلخ کلامی بھی ہوئی اور سول سوسائٹی کے کارکنان کو پریس کانفرنس ختم کرنا پڑی۔

پریس کانفرنس کے بعد مؤقف پیش کرتے ہوئے آفاق مرزا کا کہنا تھا کہ ہم نے بینالے کراچی کی انتظامیہ کو یہ پارک آرٹ کی نمائش کے لیے دیا تھا۔ اس کے علاوہ یہاں کسی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ لیکن یہاں جو کچھ کیا گیا وہ ان کے خیال میں پاکستان مخالف سرگرمی تھی۔

ڈائریکٹر جنرل پارکس کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس سرگرمی سے ایسا تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی جس سے یہ ثابت کیا جائے کہ نہ جانے پاکستان اور بالخصوص کراچی میں کیا ہورہا ہے۔ ان کے خیال میں کراچی ایک پُر امن شہر ہے اور اسے پر امن ہی رہنے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہر کا بہتر تاثر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں دنیا بھر میں لوگ یہ سب دیکھ کر یہاں نہیں آئیں گے اور بطور ڈائریکٹر جنرل پارکس وہ یہاں ایسا کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

آفاق مرزا کے خیال میں ‘یہ آرٹ نہیں بلکہ تخریب کاری’ ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اتوار کی صبح نمائش انتظامیہ کی جانب سے کیوں بند کرائی گئی تو انہوں نے جواب میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ نمائش انتظامیہ کی جانب سے بند نہیں کرائی گئی بلکہ ان کے خیال میں نمائش بند کرانے والے پاکستان آرمی کی کور فائیو سے تعلق رکھتے تھے۔

واضح رہے کہ کور فائیو صوبہ سندھ میں تعینات فوج کی واحد کور ہے۔ جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں واقع ہے۔

راؤ انوار کون ہیں؟

سندھ پولیس سے چند ماہ قبل ہی ریٹائرڈ ہونے والے راؤ محمد انوار اپنے پولیس کیریئر میں پولیس کے انتہائی طاقتور اور بااثر افسر سمجھے جاتے تھے۔ جبکہ بعض حلقوں کے مطابق وہ اب بھی بے حد طاقتور ہیں۔

سیاسی جماعتوں اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے قربت کے باعث تقریباً تین دہائیوں پر مشتمل اپنے کیریئر کے دوران وہ اپنی مرضی کی پوسٹنگز حاصل کرتے رہے اور اس دوران وہ تقریباً دس سال کراچی کے ضلع ملیر میں ہی تعینات رہے۔

ان کی شہرت کی ایک اور وجہ ماضی میں کراچی کی سب سے بڑی سمجھے جانے والی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی مخالفت بھی رہی اور کئی بار انہوں نے اس سیاسی جماعت کو ملک دشمن سیاسی جماعت سے تعبیر کیا۔ جو ان کے خیال میں کراچی کے حالات خراب کرنے کی ذمہ دار رہی ہے۔

سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ۔ (فائل فوٹو)
سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ۔ (فائل فوٹو)

راؤ انوار کی شہرت کی اصل وجہ ان کے کالعدم تحریک طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے وہ مشکوک یا مبینہ جعلی پولیس مقابلے ہیں۔ جن کے بار ےمیں خود پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے پول کھولا ہے۔

اُن پر الزام ہے کہ انہوں نے کراچی میں 700 کے قریب جعلی پولیس مقابلوں میں 444 بے گناہ افراد کو قتل کیا۔ اس میں 2018 میں پولیس تحقیقات میں جعلی ثابت ہونے والا ایک مقابلہ بھی شامل ہے۔ جس میں نوجوان نقیب اللہ محسود کو اس کے چار ساتھیوں سمیت کالعدم تحریک طالبان کا کمانڈر قرار دے کر قتل کردیا گیا تھا۔

زبردست عوامی دباؤ اور سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس لیے جانے پر راؤ انوار کی قیادت میں پولیس کے خلاف اغوا، قتل اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت دہشت گردی کی دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا۔ کئی ماہ تک راؤ انوار مفرور رہے، پھر سپریم کورٹ میں آکر انہوں نے گرفتاری دی اور اب وہ کیس کا سامنا کررہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت سندھ نے سیکیورٹی کی بناء پر سابق ایس ایس پی کے گھر کو ہی سب جیل قرار دیا ہے۔

ادھر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیس میں راؤ انوار کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست منظور کی۔ تاہم سندھ ہائی کورٹ میں راؤ انوار کی ضمانت کے خلاف مدعی کی اپیل ابھی زیر سماعت ہے۔

راؤ انوار اپنے اوپر عائد کیے گئے جعلی پولیس مقابلوں اور قتل کے الزامات کو رد کرتے ہیں اور اسے اپنے خلاف سازش قرار دیتے آئے ہیں۔ تاہم ان کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ وہ ایسے سابق پولیس افسر ہیں۔ جن کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے ریاستی ادارے اور بعض سیاستدان کھلے عام یا پس پردہ ان کا بھرپور ساتھ دیتے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG