رسائی کے لنکس

پاکستانی صحافتی تنظیموں کی شجاعت بخاری کے قتل کی مذمت


فائل
فائل

پاکستان میں صحافیوں کی تنظیموں کی طرف سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جمعرات کو ایک سرکردہ صحافی سید شجاعت بخاری کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی مذمت کی جا رہی ہے اور ملک بھر کے بڑے پریس کلبوں میں جمعے کو سیاہ پرچم لہرائے گئے۔

’نیشنل پریس کلب‘، اسلام آباد کے صدر، طارق چوہدری نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔

طارق چوہدری نے کہا کہ شجاعت بخاری کو اس دن قتل کیا گیا جس دن اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں بھارت کے زیر انتظام کمشیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’شجاعت بخاری نے یہ رپورٹ ٹوئیٹ کی تھی جس کے چند گھنٹوں کے بعد ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بڑی تشویش کی بات ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ "میں ذاتی حیثیت میں اور میڈیا برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی فورم سے مطالبہ کروں گا کہ اس بہیمانہ قتل کی تحقیقات کی جائے اور اس کے محرکات تک پہنچا جائے؛ کیونکہ اگر ہم اس کے محرکات تک نہ پہنچے یا پتا نہ چلا کہ اس قتل کے پیچھے کون ہے، تو اس سے ہی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پہلے سے دگرگوں صورت حال ہے اس کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔"

پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی ایک معتدل سوچ کے حامل صحافی کو قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایسی سوچ کے حامل شخص کو ہلاک کرنے سے بھارت کے زیر انتظام میں صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

قبل ازیں، پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں معروف کشمیر صحافی شجاعت کے نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں قتل پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

XS
SM
MD
LG