رسائی کے لنکس

logo-print

کم جونگ ان کو صدر ٹرمپ کا خط موصول


شمالی کوریا نے کم جونگ ان کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وہ ایک ایسا کاغذ پڑھ رہے ہیں جس پر بظاہر وائٹ ہاؤس کی مہر موجود ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کو ایک خط لکھا ہے جس کے مندرجات تاحال سامنے نہیں آئے ہیں۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کو کم جونگ ان کی ایک تصویر جاری کی تھی جس میں وہ ایک ایسا کاغذ پڑھ رہے ہیں جس پر بظاہر وائٹ ہاؤس کی مہر موجود ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق کم جونگ ان صدر ٹرمپ کی انتہائی جرات اور سیاسی فہم کو سراہتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ ضرور اس خط کے "دلچسپ متن" پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔

لیکن رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ نے خط میں کیا لکھا ہے اور نہ ہی امریکی حکام نے اس بارے میں لب کشائی کی ہے۔

البتہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے صدر ٹرمپ کی جانب سے کم جونگ ان کو خط بھیجے جانے کی تصدیق کی ہے۔

پومپیو نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس خط کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

گو کہ دونوں ملکوں کے درمیان جوہری تنازع پر بات چیت کا سلسلہ رواں سال کے آغاز سے معطل ہے لیکن صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

دونوں سربراہانِ مملکت کے درمیان خط و کتابت کے اس حالیہ سلسلے کی ابتدا کم جونگ ان نے کی تھی جنہوں نے رواں ماہ کے آغاز پر صدر ٹرمپ کو ایک خط بھیجا تھا۔

اس خط کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں شمالی کوریا کے سربراہ کا "خوب صورت،بہت ذاتی نوعیت کا اور جذبات سے بھرپور" نامہ ملا ہے۔

حالیہ خط و کتابت صدر ٹرمپ کے خطے کے دورے سے قبل ہو رہی ہے۔ امریکی صدر آئندہ ہفتے جاپان میں 'جی 20' سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے جس کے بعد وہ جنوبی کوریا کا دورہ بھی کریں گے۔

بعض حلقے یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی سول کے اس دورے کے دوران کم جونگ ان سے بھی ایک اور ملاقات ہو سکتی ہے۔

اگر ایسا ہوا تو دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تیسری ملاقات ہو گی۔ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی گزشتہ سال جون میں سنگاپور میں ہونے والی پہلی ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو رواں سال فروری میں ویت نام میں ہونے والی ملاقات کی ناکامی کے بعد معطل ہو گیا تھا۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے بھی کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے دورے سے قبل شمالی و جنوبی کوریا کے سربراہان کی ملاقات کے انعقاد کی کوشش کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG