رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں مشتعل عوام نے مبینہ ڈاکوؤں کو زندہ جلادیا


عینی شاہدین کا کہنا ہے اتنی دیر میں کچھ اور لوگ بھی وہاں پہنچ گئے جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور لوہے کی سلاخیں تھیں ۔ انہوں نے ڈاکوؤں کوپیٹنا شروع کردیا اور جب مارتے مارتے تھک گئے تو کسی نے باآواز بلند میں کہا کہ ’دونوں کو زندہ جلا دو۔‘

کراچی کے علاقے کورنگی میں لوگوں نے مبینہ طور پر دو ڈاکوؤں کو رنگے ہاتھوں پکڑ کرانہیں زندہ جلا دیا۔

مبینہ طور پر جلائے جانے والے افراد کے نام عبدالرحمٰن خان اورشہزاد اصغر بتائے جاتے ہیں جنہیں لوگوں نے کورنگی نمبر ڈھائی میںواردات کے دوران پکڑکر پہلے مارا پیٹا پھر پیٹرول چھڑک کر انہیں آگ لگادی۔

علاقہ مکینوں نے وائس آف امریکہ کو واقعے کی تفصیلات میں بتایا کہ ایک موٹر سائیکل پر تین نامعلوم مسلح افرادکورنگی میں واقع ایک جنرل اسٹور میں داخل ہوئے اور نقدی و قیمتی سامان لوٹانا شروع کردیا ۔

اسی اثناء میں دکاندار محمد احمد نے مزاحمت کی توایک ڈاکو نے ان پر فائر کھول دیا ۔ گولی کی آواز اور محمد احمد کی چیخ پر اطراف کے دکاندار اور دیگر لوگ اس جانب متوجہ ہوئے تو ڈاکوؤں نے بھاگنا شروع کردیا لیکن کچھ لوگوں نے دو افراد کو جیسے تیسے کرکے دبوچ لیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے اتنی دیر میں کچھ اور لوگ بھی وہاں پہنچ گئے جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور لوہے کی سلاخیں تھیں ۔ انہوں نے ڈاکوؤں کوپیٹنا شروع کردیا اور جب مارتے مارتے تھک گئے تو کسی نے باآواز بلند میں کہا کہ ’دونوں کو زندہ جلا دو۔‘

ایک اور عینی شاہد کا کہنا ہے کہ‘ لوگوں کی مار کھا کر دونوں ڈاکو بے سدھ ہوکر سڑک پر پڑے تھے کہ کچھ نامعلوم مشتعل افراد نے پیٹرول چھڑک کر انہیں آگ لگا دی۔ ڈاکو چیختے چلاتے رہے مگر کسی نے ایک نہ سنی ۔

علاقہ پولیس کے جائے وقوع پر پہنچنے تک دونوں افراد بری طرح جھلس چکے تھے۔

کورنگی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او عبدالمجید نے وی او اے سمیت دیگر میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ مشتعل لوگوں کے ہجوم سے ڈاکوں کو چھڑانا بہت مشکل تھا کیوں ہر شخض غصے میں تھا اور چلارہا تھا۔ پھر بھی کسی نہ کسی طرح پولیس نے اپنی ذمےداری پوری کی اور دونوں کو ایمبولیس کے ذریعے سول اسپتال کے برنس وارڈ میں منتقل کیا گیا۔

دونوں ملزمان کے جسم پچانوے فیصد تک جھلس گئے تھے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ انہیں بچانے کی جی توڑ کوشش کریں گے ۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کورنگی کے رہائشی تھے ۔

علاقہ مکینوں کے مطابق عوام کو پولیس پر اعتماد نہیں رہا ، شہر میں لوٹ کھسوٹ کی وار داتیں ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن بیشتر کیسز میں پولیس کچھ نہیں کرپاتی لہذا پولیس پر لوگوں کا اعتماد نہیں رہا۔

کورنگی میں پیش آئے واقعے کی ڈیڑھ منٹ دورانئے کی ایک ویڈیو فلم بھی سامنے آگئی ہے جسے ایک راہگیر نے اپنے موبائل سے بنایا ہے، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مبینہ ڈاکو زور زور سے اپنی جان کی دہائی دے رہا ہے۔

ماضی کے واقعات
کراچی میں پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں لوگوں کی جانب سے ڈاکوؤں کو پکڑنے کے بعد انہیں مارنے پیٹنے اور زندہ جلانے کے پہلے بھی کئی واقعات ہوچکے ہیں۔

کچھ مہینوں پہلے اورنگی ٹاؤن چودہ نمبر میں بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آچکا ہے جس میں دو ڈاکوؤں کو پکڑ کر زندہ جلادیا گیا جبکہ کورنگی ساڑھے تین نمبر میں بھی ایسے ہی ایک واقعے میں ڈاکوؤں کو پکڑ کر زندہ جلادیا تھا۔

اس قسم کا پہلا واقعہ سن 2008میں نارتھ ناظم آباد میں پیش آیا تھا ۔ اس واقعے میں بھی لوگوں نے دو ڈاکوؤں کو زندہ جلادیاتھا۔

واقعے کے کچھ ہی دن بعد نشتر روڈ پر بھی لوگوں نے تین رہزن پکڑ کر نذر آتش کر دیئے تھے ان میں دو افرادموقع پر اور تیسرا دوران علاج چل بسا تھا۔

XS
SM
MD
LG