رسائی کے لنکس

گوام کو خطرہ، اعلیٰ امریکی جنرل جزیرہ نما کوریا پہنچ گئے


گوام میں امریکی ایئرفورس کا مرکز تصویر میں بی ون بی کر اترتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جولائی 2017

واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان غیر معمولی خطرات کی صورت حال میں امریکہ کے اعلیٰ ترین جنرل جزیرہ نما کوریا پہنچ گئے ہیں ۔

صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کی جانب سے گوام میں امریکی علاقے پر حملے کی دھمکی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

صدر کا کہنا تھا کہ اگر گوام میں کچھ ہوتا ہے تو شمالی کوریا میں بہت بڑی مشکل صورت حال پیدا ہو جائے گی۔

کوریا کے سفر کے دوران امریکی جنرل جو ڈنفرڈ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکی فوج کی بنیادی توجہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے سے متعلق انتظامیہ کی سفارتی اور اقتصادی مہم کی مدد کرنا ہے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ حملے کے منصوبے بھی تیار کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی راہنما کے طور پرمجھے یہ یقینی بنانا ہے کہ سفارتی اور اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مہم کی ناکامی کی صورت میں صدر کے پاس قابل عمل فوجی ترجيحات موجود ہوں ۔

اوسان ایئر بیس پر آمد کے بعد جنرل ڈنفرڈ نے وقت ضائع کیے بغیر خطے کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ ترین کمانڈروں سے ملاقات کی ۔

شمالی کوریا نے اس سال میزائل کے کئی تجربوں کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کرنے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ پیانگ یانگ اب کہتا ہے کہ اس کے پاس ایک ایسا جوہری میزائل ہے جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رینڈ کارپوریشن کے تجزیہ کار بروس بینٹ نے اسکائپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر شمالی کوریا امریکہ پر کوئی حملہ کرنے والا ہوا، تو میرا خیال ہے کہ امریکی صدر فوری طور پر تھیٹر کمانڈرسےشمالی کوریا کی جوہری صلاحیتوں سے چھٹکارے کا مطالبہ کریں گے۔

پیر کے روز سول میں فوج اور سیاسی راہنماؤں سے گفتگو کے بعد ڈنفرڈ چین جائیں گے، جو ایک ایسا ملک ہے جسے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو روکنے سے متعلق بین الاقوامی منصوبوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا گیا ہے ۔

بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے رچرڈ بش کہتے ہیں کہ شمالی کوریا چین پر کافی انحصار کرتا ہے اس لیے اگر چین چاہے تو وہ اس ملک کو ان بہت سے وسائل سے انکار کر کے جن پر شمالی کوریا انحصار کرتا ہے، اسے متاثر کر سکتا ہے ۔

چینی راہنما شمالی کوریا کے جوہری عزائم کو کچلنے کے لیے پیانگ یانگ پردباؤ ڈالنے کی غرض سے وسائل سے انکار کرنے میں تامل سے کام لیتے رہے ہیں ۔

جانز ہاپکنزیونیورسٹی کے جول وٹ کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے مدد کی اتنی توقع نہ رکھیں جتنی آپ سمجھتے ہیں کہ انہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔

لیکن بیجنگ ایسی علامات ظاہر کر چکا ہے کہ وہ برے رویے کا مظاہرہ کرنے والے اپنے اس پڑوسی کے ساتھ بیزاری کا اظہار کر سکتا ہے۔ وہ پیانگ یانگ پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاز کے لئے ووٹنگ میں ایک متفقہ سلامتی کونسل کا ساتھ دے چکا ہے ۔ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار گلوبل ٹائمز نے انتباہ کیا ہے کہ چین اس صورت میں شمالی کوریا کی مدد کے لیے نہیں آئے گا اگر وہ ایسا میزائل داغے گا جس سے امریکی سر زمین کو خطرہ لاحق ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG