رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور: وزیرِ اعلیٰ کا نامکمل بس منصوبے کے افتتاح سے انکار


خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر پشاور کے میٹرو بس منصوبے کا افتتاح نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کو اس منصوبے کی تکمیل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔

لیکن صوبائی وزیرِ اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے جمعرات کی شام بس کے نو تعمیر شدہ ٹریک پر آزمائشی بس چلائی اور کہا کہ منصوبے کا سول ورک مکمل ہو گیا ہے اور باقی کام مکمل ہونے کے بعد اس کے باقاعدہ افتتاح کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے گزشتہ ماہ حکام کو بس منصوبے کو 23 مارچ تک مکمل کرنے اور اس کے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد منصوبے پر کام تیز کر دیا گیا تھا۔

لیکن وزیرِ اطلاعات شوکت یوسفزئی کے بقول مہینے بھر جاری رہنے والی تیز بارشوں کے باعث منصوبے کی تکمیل اور اس کا افتتاح ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

جمعے کی شام جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے نامکمل منصوبے کا افتتاح کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

تاہم اُنہوں نے اس منصوبے کو حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے پشاور کے شہریوں کے لیے اہم کاوش قرار دیتے ہوئے اس کی جلد از جلد تکمیل کی ہدایت کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے نامکمل منصوبے کا افتتاح نہ کرنے کا فیصلہ وزیرِ اعظم عمران خان کے مشورے پر کیا ہے۔

منصوبے میں تبدیلی پر تبدیلی

پشاور بس منصوبے (بس ریپڈ ٹرانزٹ - بی آر ٹی) پر کام ستمبر 2017ء میں شروع ہوا تھا اور سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے اس کا افتتاح کرتے وقت اسے چھ مہینے میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اس منصوبے پر ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود تاحال کام جاری ہے۔

لگ بھگ 28 کلومیٹر پر مشتمل منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھتے وقت سابق وزیرِ اعلیٰ اور موجودہ وفاقی وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے اس منصوبے کو لگ بھگ 46 ارب روپے میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

لیکن اب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کے اخراجات 66 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔

بس منصوبے کا سنگِ بنیاد ایسے وقت رکھا گیا تھا جب اس منصوبے کی ڈیزائننگ اور پلاننگ پر کام جاری تھا۔ اب تک اس منصوبے کے ڈیزائننگ اور پلاننگ میں لگ بھگ 42 تبدیلیاں کی جا چکی ہیں جس کے باعث حکام کے بقول اس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

منصوبے کے اثرات اور مخالفت

خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک کے بقول یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جسے عوام کے مطالبے یا ضرورت کی بنیاد پر شروع نہیں کیا گیا بلکہ ان کے بقول حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی کو بھی اس منصوبے کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

سردار بابک نے کہا کہ اس منصوبے سے پشاور 'جی ٹی روڈ' کی تاریخی شاہراہ سے کٹ کر رہ گیا ہے جب کہ شہریوں کو مستقبل میں بھی اس منصوبے سے بہت مشکلات ہوں گی۔

پشاور کے علاقے صدر کے تاجروں کی تنظیم کے سربراہ حاجی شرافت علی مبارک کا منصوبے کا افتتاح مؤخر ہونے کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ بالکل ان کی توقعات کے عین مطابق ہے کیوں کہ اب بھی اس منصوبے کا بیشتر کام مکمل نہیں ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس منصوبے نے پشاور شہر کے تمام تر طبقوں کو شدید متاثر کیا ہے اور جن علاقون میں تعمیرات جاری ہیں وہاں تمام کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

پشاور قومی جرگہ کے سربراہ خالد ایوب کا کہنا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو بر وقت مکمل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اسے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ 26 مارچ کو ان کی تنظیم حکومت کے خلاف پشاور شہر میں جلوس نکالے گی جس میں لوگوں کو حکومت کی ناکامی سے آگاہ کیا جائے گا۔

حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ شہر کے بیشتر سماجی اور کاروباری حلقے بھی اس منصوبے سے پر یشان ہیں اور شہر روزانہ کی بنیاد پر اس منصوبے کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔

پشاور قومی جرگے میں شامل سیاسی جماعتوں اور تجارتی کاروباری طبقوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے 26 مارچ سے اس منصوبے کے خلاف باقاعدہ احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جرگے نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے قومی احتساب بیورو (نیب) سے سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے رفقاء کار کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG