رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات مالی بحران کا شکار


(فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کی تمام جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مالی بحران کی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کو فراہم کی جانے والی امداد میں کٹوتی ہے۔

پشاور یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات کی انتظامیہ مالی بحران کے نتیجے میں ملازمین کو بر وقت تنخواہیں، بقایا جات اور ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو پنشن کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔

خیبر پختونخوا میں فی الوقت 30 سرکاری اور 10 نجی یونیورسٹیاں قائم ہیں۔ نجی شعبے کی تمام یونیورسٹیاں تجارتی بنیادوں پر قائم ہیں جب کہ سرکاری جامعات کے مالی اخراجات حکومت اور مختلف قسم کی فیسوں کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں۔

پشاور کی تاریخی یونیورسٹی سمیت صوبے میں قائم تمام تر سرکاری یونیورسٹیوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ سال 2008 کے بعد قائم ہونے والی زیادہ تر یونیورسٹیاں چونکہ ابھی ابتدائی اور تعمیراتی مراحل سے گزر رہی ہیں، لہٰذا ان کی تمام تر مالی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔

لگ بھگ 70 سال قبل قائم ہونے والی پشاور یونیورسٹی کا مالی خسارا پورا کرنے کے لیے انتظامیہ نے صوبائی حکومت سے فوری طور پر ایک ارب 20 کروڑ روپے فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

یونیورسٹی کے ترجمان پروفیسر علی عمران نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے زیادہ اخراجات ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور موجودہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں اُٹھتے ہیں جو ان کے بقول بالترتیب ایک ارب 20 کروڑ اور دو ارب 10 کروڑ روپے سالانہ بنتے ہیں۔

پروفیسر علی عمران کے بقول یونیورسٹی کے 2800 موجودہ ملازمین کی تنخواہیں اور 1540 ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کے اخراجات کے علاوہ 30 سے 40 کروڑ روپے سالانہ کھیلوں، گاڑیوں کے تیل، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر اخراجات کی مد میں خرچ کیے جاتے ہیں۔

گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے پروفیسر صادق کمال کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کو اس وقت دو ارب 84 کروڑ روپے سالانہ تنخواہوں کی مد میں جب کہ پنشن کی رقم ملا کر سالانہ تین ارب 32 کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ مالی خسارے کے باوجود وائس چانسلر اور ان کے انتظامی معاونین نے 195 ملازمین کو بھرتی کیا ہے۔ اس سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا کے حکم پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

پشاور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے لگ بھگ 60 کروڑ روپے قرضہ لیا ہے جب کہ پشاور کی زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں 48 کروڑ روپے اقساط میں ادا کر رہی ہے۔

اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا بنۤوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان کی جامعات کو بھی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے صوبے کی جامعات کو درپیش مالی بحران کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اصل وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی امداد میں 40 فی صد سے زیادہ کٹوتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جامعات کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ شوکت یوسف زئی نے امید ظاہر کی کہ یہ مسائل بہت جلد حل ہو جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور انتظامی عہدے دار ان اداروں کو درپیش مالی مشکلات کے علاوہ گزشتہ کئی برس سے مستقل وائس چانسلرز کی تعنیاتی کے سلسلے میں بھی شکایات کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کی 30 سرکاری جامعات میں سے لگ بھگ 13 جامعات کے وائس چانسلرز کی آسامیاں خالی ہیں جن پر ابھی تک کسی شخص کو تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG