رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی عدالت میں پاکستان نے کلبھوشن کیس پر اپنا جواب جمع کرا دیا


باکستانی میڈیا پر کلبھوشن یادیو کے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو

علی رانا

پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں بھارتی باشندے کلبھوشن یادیو کیس میں، جسے وہ جاسوس قرار دیتا ہے، اپنا جواب جمع کرا دیا ہے جس میں پاکستان کا موقف ہے کہ کلبھوشن یادیو عام قیدی نہیں بلکہ بھارتی بحریہ کا حاضرسروس افسر ہے جس پر ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا،

پاکستان نے عالمی عدالت میں بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جواب میں کہا کہ کمانڈر کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے۔ وہ عام قیدی نہیں اور اس پر ویانا کنونشن کا إطلاق نہیں ہوتا۔ کلبھوشن کوئٹہ اور کراچی سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں دہشت گردی کو فروغ دیتا رہا ہے۔ اس کے پاکستان میں دہشت گردوں سے واضح تعلقات کے ثبوت موجود ہیں۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے جواب میں کہا گیا کہ کمانڈر کلبھوشن یادیو کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے ہے جس کا وہ خود اقرار کر چکا ہے۔ وہ اپنا کوڈ نام حسین مبارک پٹیل استعمال کرتا تھا۔ پاکستان نے اسے صفائی کا پورا موقع دیا اور اسے پاکستانی قوانین کے مطابق سزا دی گئی۔

حاضر سروس بھارتی آفیسر کا پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونا انتہائی خوفناک اور بھیانک ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے انسانی ہمددردی کی بنیاد پر کلبھوشن کی بیوی اور والدہ کو اس سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔

جواب میں پاکستان کا موقف ہے کہ پاکستانی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے پچھلے مقدمات کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا جن میں امریکہ ودیگر ممالک کے کیسز کے حوالہ جات شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر برائے بھارت فریحہ بگٹی نے عالمی عدالت انصاف میں جواب جمع کروا یا۔ پاکستان کی جانب سے اٹارنی جنرل اشتراوصاف، لیگل ٹیم اور دفتر خارجہ کی ٹیم نے مل کر پاکستانی موقف پر مبنی جواب تیار کیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کلبھوشن کی تخریبی سرگرمیوں، ٹرائل اور چارج شیٹ کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔

عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کو 13 دسمبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ جس کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی کہ وہ اس پر سماعت کرے یا دونوں ملکوں کو مزید جواب کی مہلت دے ۔ امکان ہے کہ پاکستان کے جواب کے بعد بھارت جواب الجواب جمع کرائے گا اور اگر بھارت نے کوئی مزید سوال اٹھایا تو پاکستان بھی اس کا جواب جمع کرائے گا۔

جوابی عمل کی تکمیل کے بعد کلبھوشن کیس کی سماعت 2018ء کے وسط تک شروع ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت میں بھارت نے موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن کو ویانا کنونشن کے تحت قیدیوں کے حقوق حاصل ہیں۔

حساس اداروں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی حکومت یہ اعتراف کرتی ہے کہ کلبھوشن اس کا سابق نیوی افسر ہے، تاہم اس کا دعویٰ ہے کہ کلبھوشن کو ایران سے گرفتار کیا گیا۔

فوجی عدالت نے 10 اپریل 2017 کو کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔ جس کے بعد بھارت یہ کیس عالمی عدالت لے گیا جس نے 18 مئی 2017 کو اس سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا۔

پاکستان کی حکومت نے کلبھوشن یادیو کی اس کی بیوی سے ملاقات کرانے کی پیش کش کی تھی جس پر بھارت نے کلبھوشن کی والدہ کی ملاقات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ایک سفارت کار بھی پاکستان آئے گا۔ بھارت کا اس حوالے سے موقف ہے کہ پاکستان میں کلبھوشن کی والدہ اور بیوی سے کسی قسم کے کوئی سوالات نہیں کیے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG