رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی عدالت سے کلبھوشن کی رہائی کے حکم کی استدعا


عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کے کیس کی سماعت کا ایک منظر۔ 18 فروری 2019

بھارت نے پیر کے روز عالمی عدالت انصاف سے کہا ہے کہ وہ اس بھارتی شہری کی رہائی کا حکم جاری کرے جسے پاکستان میں سزائے موت کا سامنا ہے کیونکہ اسلام آباد سزا سنائے جانے سے قبل اسے سفارتی معاونت فراہم کرنے میں ناکام رہا جس کا تقاضا بین الاقوامی معاہدہ کرتا ہے۔

عالمی عدالت انصاف میں پیر کے روز جب سماعت شروع ہوئی تو بھارتی وکیل نے کلبھوشن یادیو کی رہائی کے حق میں اپنے دلائل دیے۔

پاکستان کلبھوش پر بھارتی جاسوس ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے جسے بلوچستان میں تخریب کاری کا مشن سونپا گیا تھا۔ وہ ایران میں مقیم تھا اور ایک جعلی پاسپورٹ پر جس میں اسے مسلمان ظاہر کیا گیا تھا، سرحد کے آر پار سفر کرتا تھا۔

کلبھوشن کیس کی چار روزہ سماعت ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب بھارتی کشمیر میں ایک فوجی قافلے پر خودکش حملے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد سے دو جوہری ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور بھارتی وزیر اعظم مودی نے سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

بھارت کے سینیر کونسلر ہریش سالو نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ انصاف کے مفاد میں ہے کہ انسانی حقوق کو ایک حقیقت بناتے ہوئے اس کے موکل کی رہائی کا حکم صادر کیا جائے۔

پاکستان عالمی عدالت میں اپنے جوابی دلائل منگل کے روز دے گا۔

فیصلہ سنائے جانے کی ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ عالمی عدالت عموماً فیصلے کا اعلان کئی مہینوں کے بعد کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG