رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کے مقدمے کی سماعت شروع


فائل فوٹو

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اسی دوران ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف میں مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے مقدمہ کی سماعت پیر سے شروع ہو گئی ہے۔

سماعت کے دوران دونوں ممالک اپنے اپنے موقف کے حق میں دلائل دیں گے۔

بھارت چاہتا ہے کہ کلبھوشن تک کونسلر رسائی دی جائے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف میں یہ موقف اختیار کرے گا کہ ویانا کنونشن 1963ء کے مطابق بھارت کو کلبھوشن یادیو تک کونسلر رسائی نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان کا موقف ہے کہ کسی ایسے ملک کو اس کے کسی ایسے عہدیدار تک رسائی دینا جسے اسی ریاست نے دہشت گردی اور جاسوسی کے لیے بھیجا ہو بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان نے مبینہ بھارتی جاسوس کو بلوچستان سے گرفتار کرنے کا دعوٰی کیا تھا اور 2017 میں ایک فوجی عدالت نے انھیں جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔

دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو ان کی بحریہ کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں جنہیں پاکستان نے ایران سے اغواء کیا گیا تھا جب کہ پاکستان بھارت کے اس دعویٰ کو مسترد کرتا ہے۔

بھارت کی جانب اس معاملے پر عالمی عدالت برائے انصاف میں درخواست دائر کی گئی تھی اور اس دوران عالمی عدالت انصاف نے اس معاملے کی مکمل سماعت تک کلبھوشن کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا تھا۔

کلبھوشن کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کا موقف

دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے باہمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے بنائی جانے والی اس عدالت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اس اہم ترین مقدمہ ک سماعت چار دن تک جاری رہے گی۔

پیر کو سماعت کے پہلے روز بھارت کے وکلاء عدالت کے سامنے موقف کے حق میں دلائل دیں گے۔ جس کے بعد منگل کو پاکستان کلبھوشن یادیو کے بارے میں اپنا موقف پیش کرے گا۔ 20 فروری کو بھارت کو جواب الجواب اور 21 فروری کو پاکستان کو جواب الجواب کا موقع ملے گا۔

عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکلاء کی ٹیم کی سربراہی اٹارنی جنرل منصور علی خان جب کہ بھارتی وکلاء کی ٹیم کی قیادت ہارش سلیو کر رہے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف میں بھارت نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن تک کونسلر رسائی نہ دے کر پاکستان نے نہ صرف ویانا کنونش 1963ء کی خلاف ورزی کی بلکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان قیدیوں تک رسائی کے دوطرفہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان کی فوجی عدالت کا اپریل 2017ء کو کلبھوشن یادیو کو پھانسی کا فیصلہ غیر منصفانہ ہے اور عالمی عدالت انصاف سے کلبھوشن یادیو کی‘‘ بریت، رہائی اور اسے بھارت کے حوالے کرنے کی استدعا ’’کر رکھی ہے۔

پاکستان کی جانب سے اس مقدمہ میں عالمی عدالت کے اختیار سماعت کو چیلنج کیا گیا ہے اور موقف اپنایا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی میں ملوث ہے لہذا اس کا مقدمہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے۔

پاکستان بھارت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ یہ عالمی قوانین کے برخلاف ہے یا مطابقت نہیں رکھتا کہ کسی جاسوس تک اس ملک کو کونسلر رسائی دی جائے جیسا کہ بھارت چاہ رہا ہے۔

پاکستان نے 2008ء کے قیدیوں کے حوالے سے پاک بھارت دوطرفہ معاہدے پر موقف اپنایا ہے کہ معاہدہ دونوں ملکوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کونسلر رسائی کی درخواست کر سکتے ہیں تاہم اگر یہ معاملہ قومی سلامتی کا ہو تو اس درخواست کا فیصلہ دنوں ملک معاملے کے میرٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنے کے مجاز ہیں۔

مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کون ہیں؟

پاکستان نے مبینہ بھارتی جاسوس یادیو کو 2016ء میں بلوچستان سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو نے ایک مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے اعترافی بیان میں‘‘ اس بات کا اقرار دیا تھا وہ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں۔’’

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستانی عہدیداروں کے مطابق ‘‘ یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ وہ پاکستان میں جاسوسی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔’’

پاکستان کی فوجی عدالت نے 10 اپریل 2017 ء میں کلبھوشن کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ بھارت بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے بھارت کے لیے جاسوسی کرنے اور مبینہ طور تخریب کارانہ کارروائیاں کرنے کے شواہد عدالت کے سامنے رکھے ہیں جن میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے انہیں بھارت کا پاسپورٹ بھی جاری کیا گیا تھا اور پاکستان حکام کے مطابق اس پاسپورٹ پر کم از کم 17 بار بھارت سے بیرون ملک اور واپس بھارت گیا تھا۔

پاکستان حکام کے مطابق بھارت سے اس معاملے سے متعلق بعض بھارتی صحافیوں کی طرف سے متعدد بارے وضاحت طلب کرنے کے باوجود بھارت کا موقف رہا ہے کہ یہ بات‘‘ غیر متعلق اور ‘‘ایک گمراہ کن پروپگنڈا ’’ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG