رسائی کے لنکس

logo-print

ن لیگ کے پانچ قانون سازوں کے استعفے پیر سیالوی کے سپرد


رانا ثنا اللہ (فائل)

پاکستان مسلم لیگ نواز کے دو اراکین قومی اسمبلی این اے 88 سے غلام بی بی بھروانہ اور این اے 81 سے ڈاکٹر نثار جٹ؛ اور تین اراکین پنجاب اسمبلی پی پی 37 سے نظام الدین، محمد خان پی پی 81 محمد رحمت اللہ پی پی 71 نے اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کا اختیار پیر حمید الدین سیالوی کے سپرد کر دیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اِن دنوں سیاسی جماعتوں کے سربراہ سانحہ ماڈل ٹائون انکوائری رپورٹ پر سربراہ عوامی تحریک سے ملاقاتیں کرکے مسلم لیگ کی پریشانیاں بڑھا رہے ہیں، تو دوسری جانب درگاہ سیال شریف کے سجادہ نشین پنجاب حکومت پر دبائو بڑھا رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے دو اراکین قومی اسمبلی این اے 88 سے غلام بی بی بھروانہ اور این اے 81 سے ڈاکٹر نثار جٹ؛ اور تین اراکین پنجاب اسمبلی پی پی 37 سے نظام الدین، محمد خان پی پی 81 محمد رحمت اللہ پی پی 71 نے اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کا اختیار درگاہ سیال شریف کے سجادہ نشین پیر حمید الدین سیالوی کے سپرد کر دیا ہے۔

پنجاب کے شہر فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں پیر حمید الدین سیالوی کی سربراہی میں جلسہ کیا گیا جہاں شرکاء نے وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ رکن پنجاب اسمبلی غلام نظام الدین سیالوی نے کہا کہ وہ ختم نبوت پر ہزار نشستیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔

سجادہ نشین درگاہ سیال شریف پیر حمیدالدین سیالوی نے کہا ہے کہ ''ختم نبوت کے معاملے پر رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ حتمی ہے''؛ اور یہ کہ ان کا موقف اصولی ہے ''جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں کہ ہم نے کوئی ڈیل کر لی ہے۔ لیکن، اب ہمارا مسلم لیگ ن سے کوئی تعلق نہیں ہے''۔

ادھر، آٹھ دسمبر کو سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری سے ملاقات کی تو دیگر جماعتوں کے سرابراہ بھی حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے ماڈل ٹائون کا رخ کر رہے ہیں۔ شہباز شريف اور رانا ثناء اللہ کے استعفے کے مطالبہ پر طاہرالقادري کی حمايت کے لئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شيخ رشيد ملاقات کے لیے 10 دسمبر کو ماڈل ٹائون آن پہنچے اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔

بقول شیخ رشید، ''حکمران اب بچ نہيں سکتے۔ سپريم کورٹ ميں حديبيہ پيپر ملز سميت اہم کيس بھی لگ رہے ہيں۔ مارچ سے پہلے پہلے حکومت ختم ہوجائے گي''۔

اس موقع پر طاہرالقادري نے پاناما طرز پر سانحہ ماڈل ٹائون پر جے آئی ٹی بنانے، پولیس اور بیورکریسی کے افسروں کو عہدوں سے ہٹانے، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو مستعفی ہونے اور سزا دلوانے کے مطالبات دہرائے۔

ڈاکٹر قادری نے کہا کہ ''مطالبے کے نتيجے ميں، سبک دوش ہوجائيں، ورنہ عوام کي پرامن طاقت سے باہر نکال دیں گے''۔

سانحہ ماڈل ٹائون پر انکوائری رپورٹ آنے کے بعد نو دسمبر کو پاک سرزمین پارٹی اور پاکستان تحريک انصاف کے وفود نے بھی سربراہ عوامی تحری سے ملاقاتیں کر کے انہیں اپنی جماعتوں کی یقین دہانی کرائی۔

موجودہ سیاسی صورتحال پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزير ريلوے خواجہ سعد رفيق نے کہا کہ ''انتخابات ميں تاخير ہوئي تو سب سے بڑي وجہ آصف زرداري اور عمران ہوں گے۔ یہ سارا رونا سينیٹ کے اليکشن کا ہے کہ کہيں مسلم ليگ ن اکثريت نہ لے جائے''۔

سعد رفیق نے کہا کہ ''آصف زرداری اور طاہرالقادری کی ملاقات پر حيرت ہے۔ ايک دوسرے کو گالياں دينے والے ايک ساتھ اکٹھے ہيں۔ ہميں بھی جواب دينا آتا ہے مگر ملک ميں لڑائی نہيں چاہتے''۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ تمام سیاسی قوتیں حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے ایسا کر رہی ہیں، ان کا مستقبل کے سیاسی منظرنامے سے کوئی تعلق نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG