رسائی کے لنکس

مسلم لیگ (ن) کی ناراض اراکینِ اسمبلی کو منانے کی کوشش


فائل

احمد بلال نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال بڑھتے ہوئے مذہبی اثر و رسوخ کی مظہر ہے اور اس سے ریاستی اداروں کی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اپنے ان اراکینِ اسمبلی کی ناراضی دور کرنے کے لیے کوشاں ہے جنہوں نے ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے متنازع معاملے کے بعد سرگودھا کی ایک مذہبی شخصیت سے رابطہ کرکے اپنی جماعت کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ایک درجن قانون سازوں نے پیر حمید الدین سیالوی سے رجوع کر کے حلف نامے میں ہونے والی تبدیلی سے متعلق اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ان اراکینِ اسمبلی نے اپنے استعفے بھی حمید الدین سیالوی کو پیش کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ہونے والی مبینہ تبدیلی کے بعد اور پھر اس تبدیلی کو درست کرنے کے باوجود بھی حکومت کو مذہبی و سیاسی حلقوں کے طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ معاملہ مسلم لیگ کے اندر بھی اختلاف کی وجہ بنا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ختمِ نبوت کے حساس معاملے کے پیشی نظر بعض قانون ساز یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کی جماعت کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، "یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری ہاں سیاست کس حد تک مذہبی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کے اثر کے تحت آ چکی ہے۔"

انہوں نے کہا، "مذہب کا اثر ہماری سیاست میں ہمیشہ سے ہے اور رہے گا کیونکہ ملک کی بڑی اکثریت اسلام سے وابستہ ہے۔ لیکن اس طرح وزرا اور قانون ساز (مذہبی شخصیت) کے سامنے اپنے استعفے پیش کر یں گے اور پھر وہ بتائیں گے کہ آپ مسلمان ہیں یا نہیں اور آپ کو مسلمان ہونے کے لیےکیا کرنا چاہیے، یہ صورت حال پہلے نہیں تھی۔"

احمد بلال نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال بڑھتے ہوئے مذہبی اثر و رسوخ کی مظہر ہے اور اس سے ریاستی اداروں کی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔

تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے ختمِ نبوت کے حلف نامے میں مبینہ تبدیلی کے معاملے کے اثرات مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک پر پڑ سکتے ہیں۔

دوسری طرف سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ختمِ نبوت کا معاملہ ہمیشہ سے ہی ایک حساس معاملے رہا ہے۔ لیکن ان کے بقول یہ ایک جذباتی معاملہ ہے اور سیاست پر اس کا اثر انداز ہونا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا، "اگر مسلم لیگ (ن) فوراً اس پیغام کو سمجھ گئی اور اس معاملے کو آگے مزید نہ بڑھنے دیا تو عام بریلوی مسلک کا ووٹر شاید اس سے متاثر نہ ہو۔ اب تک جو متاثر ہوئے ہیں وہ بریلوی مسلک کے بہت سرگرم کارکن ہیں۔"

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت نے معاہدہ کر کے ایک مشکل کو ٹال دیا ہے جس سے ان کی مذہبی حلقوں سے کشیدگی میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ حمید الدین سیالوی کا پنجاب کے بعض عوامی حلقوں میں اثر و رسوخ ہے اور جب یہ معاملہ ان کے پاس گیا ہے تو مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنما اس معاملے پر اپنی وضاحت پیش کریں گے کیونکہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کی اکثریت اور ان کے ووٹر بھی مذہبی طور پر ایک ہی سوچ کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ہونے والی مبینہ تبدیلی کے بعد ایک مذہبی و سیاسی 'تحریکِ لبیک یار سول اللہ ' نے تین ہفتوں سے زائد عرصے تک اسلام آباد میں دھرنا دیا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ختمِ نبوت کے حلف نامے میں مبینہ تبدیلی کے ذمہ دار افراد کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور وزیرِ قانون زاہد حامد مستعفی ہوں۔

اگرچہ حکومت کا موقف تھا کہ حلف نامے میں تبدیلی ایک کلیریکل غلطی تھی جسے بعد میں درست کر لیا گیا اور اب اس معاملے پر کسی احتجاج یا دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن بعد ازاں دھرنے کو پولیس کی مدد سے ختم کرنے کی ناکام کوشش کے بعد حکومت نے فوج کی مدد سے مذہبی جماعت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد اس دھرنے کو ختم کرایا اور وزیرِ قانون کو بھی مستعفیٰ ہونا پڑا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG