رسائی کے لنکس

logo-print

سانحۂ ساہیوال: لاہور ہائی کورٹ کا عدالتی تحقیقات کا حکم


سانحۂ ساہیوال میں زخمی ہونے والی ہادیہ جس کے والد، والدہ اور بڑی بہن پولیس فائرنگ سے مارے گئے تھے۔ (فائل فوٹو)

لاہور ہائی کورٹ نے سانحۂ ساہیوال کی تحقیقات کرنے والے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے یہ حکم جمعرات کو سانحۂ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار شمیم احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت میں سانحے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اور پنجاب پولیس کے ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ اور پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ذیشان اور خلیل کے بھائی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر سرکاری وکیل عبدالصمد نے تحقیقات میں پیش رفت کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

جسٹس سردار شمیم نے کہا کہ عدالت نے عینی شاہدین کی فہرست دی تھی اور جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ سب کو فون کر کے طلب کریں اور بیان ریکارڈ کریں۔

اس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ اُنہوں نے لوگوں سے رابطہ کیا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پوچھا کہ کیا آپ نے اِس کیس کی ڈائری میں یہ لکھا ہے؟ جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ یہ ڈائری میں نہیں لکھ سکے۔

اس پر بینچ کے رکن جسٹس صداقت علی خان نے ایڈیشنل آئی جی سے پوچھا کہ کیا آپ کبھی اپنے دفتر سے باہر بھی نکلے ہیں؟

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل آئی جی سے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آپ عدالتی حکم کو اس طرح سے لیتے ہیں۔ کیوں نہ آپ کو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر نوٹس جاری کیے جائیں؟

دورانِ سماعت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو عدالت جوڈیشل انکوائری کا حکم دے سکتی ہے۔

عدالت میں خلیل کے بھائی جلیل کے وکیل احتشام امیرالدین نے استدعا کی کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیں۔

اس پر چیف جسٹس سردار شمیم احمد نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سیشن جج ساہیوال انکوائری کے لیے مجسٹریٹ تعینات کریں۔

چیف جسٹس نے کہا جو لوگ بیان ریکارڈ کرانا چاہیں، جے آئی ٹی دفعہ 161 کے تحت اُن کے بیان ریکارڈ کرے۔

سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سانحۂ ساہیوال میں مارے جانے والے مبینہ دہشت گر ذیشان کے بھائی احتشام نے کہا کہ وہ جے آئی ٹی کی کاررؤائی سے مطمئن نہیں۔

احتشام کا کہنا تھا کہ ابھی تک جے آئی ٹی کے کسی بھی رکن نے اُن سے یا اُن کے اہلِ خانہ تک سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جے آئی ٹی والے فائرنگ میں ملوث محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں کو بچانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک جے آئی ٹی کا کوئی بھی رکن اُن سے ملنے تک نہیں آیا تو وہ ان کی تحقیقات سے کیسے مطمئن ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ 19 جنوری کو محکمۂ انسداد دہشت گردی پنجاب کے اہلکاروں نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں کار سوار خلیل، ان کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی اریبہ اور کار کے مالک ذیشان ہلاک ہوگئے تھے۔

جائے واقعہ پر موجود عینی شاہدین نے پولیس فائرنگ کی ویڈیوز بنالی تھیں جن کے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

تاہم لگ بھگ ایک ماہ گزرنے کے باوجود تحقیقات میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی ہے جس پر سماجی حلقے برہمی کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG