رسائی کے لنکس

logo-print

جان لیوا ادویات کی عدالتی تحقیقات کے لیے درخواست


ادویات تبدیل کرانے کے لیے اسپتال میں لوگوں کا رش لگا ہوا ہے

پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ سرکاری اسپتال کی فراہم کردہ مفت ادویات کے استعمال سے ہونے والی اموات کی عدالتی تحقیقات کے لیے وہ اپنا کوئی جج نامزد کرے۔

پیر کو عدالت عالیہ نے آئینی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس سلسلے میں اپنے جوابات 6 فروری تک جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت غیر میعاری ادویات کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی جامع تحقیقات اور ذمہ داران کی نشاندہی کے علاوہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے اپنی تجاویز بھی فراہم کرے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی سربراہی میں دو روز قبل ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ادویات اسکینڈل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

’پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘ یا پی آئی سی کی طرف سے فراہم کی گئی امراض قلب کی بعض غیر میعاری ادویات کے ری ایکشن سے اب تک کم از کم 114 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صوبائی حکومت نے تمام معاملے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور اسی تناظر میں پی آئی سی کے دو اعلیٰ عہدے داروں سمیت کئی سرکاری افسران کو حقائق کا تعین ہونے تک معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

شعبہ طب سے منسلک شخصیات کی معطلی کے خلاف ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ’ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن‘ نے اپنے سینیئر ڈاکٹروں کی معطلی اور گرفتاری کے خلاف ہڑتال کی کال دے رکھی تھی لیکن پیر کو محکمہ صحت کے نمائندوں سے مذاکرات کے بعد فی الوقت ہڑتال یہ ہڑتال موخر کردی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG