رسائی کے لنکس

logo-print

مولانا عبدالعزیز اور اسلام آباد انتظامیہ میں مفاہمت، لال مسجد میں خطبہ نہیں دیں گے


مولانا عبدالعزیز، فائل فوٹو

اسلام آباد کی لال مسجد اور ایچ الیون میں جامعہ حفصہ کے حوالے سے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور مولانا عبدالعزیز کے درمیان مفاہمت ہو گئی ہے جس کے نتیجہ میں ایچ الیون میں موجود عمارت کا قبضہ مولانا عبدالعزیز نے چھوڑ دیا ہے اور پولیس نے لال مسجد کا محاصرہ ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔

مولانا عبدالعزیز لال مسجد کی خطابت چھوڑنے پر تیار ہو گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کہتے ہیں کہ لال مسجد کا خطیب اسلام آباد انتظامیہ تعینات کرے گی۔

مولانا عبدالعزیز کی بھتیجے اور لال مسجد آپریشن میں ہلاک ہونے والے عبدالرشید غازی کے بیٹے ہارون الرشید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالعزیز اس وقت لال مسجد کے اندر موجود ہیں۔ البتہ ایچ الیون میں جامعہ حفصہ کے پلاٹ کو متنازعہ پلاٹ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ طالبات نے ایچ الیون کا مدرسہ خالی کر دیا ہے جس کے بعد لال مسجد کا محاصرہ ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لال مسجد میں نمازیوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی ہے۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ ایچ الیون کا پلاٹ کیونکہ متنازعہ بن گیا ہے اور ہماری کافی رقم لگی ہوئی ہے تو جب تک اس کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، تب تک حکومت کسی پارٹی کو یہ پلاٹ نہیں دے گی۔ اس پلاٹ پر تقریباً تین سے ساڑھے تین کروڑ روپے کی رقم لگی ہوئی ہے۔

اگر یہ مطالبہ مانا جاتا ہے تو بچیاں ہم واپس بلا لیں گے، اور اس کے بعد لال مسجد کا محاصرہ ختم کیا جائے گا، جس پر مذاکرات کے بعد جید علماء کی ضمانت پر ہم نے بچیاں واپس بلا لیں ہیں اور لال مسجد کا محاصرہ ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزید مطالبات پر بھی بات چیت جاری رہے گی، جن میں اسلامی نظام کا نفاذ ،جہادِ کشمیر کا اعلان، جامعہ حفصہ کی تعمیر اور دیگر چند مطالبات ابھی باقی ہیں۔

شہدا فاؤنڈیشن کے حافظ احتشام نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال مذاکرات صرف ایچ الیون کی جگہ پر ہوئے ہیں۔ دوسرے مرحلہ میں لال مسجد خالی کرنے پر مذاکرات ہوں گے۔ ابھی لال مسجد میں مولانا عبدالعزیز، ان کے ساتھ سو کے قریب جامعہ حفصہ کی طالبات اور چھ سات مرد ساتھی بھی موجود ہیں۔

مولانا عبدالعزیز انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کے مطابق لال مسجد کی خطابت سے دستبردار ہو گئے ہیں، تاہم حکومت کے ساتھ معاہدہ کے مطابق انہیں مسجد سے بے دخل نہیں کیا جائے گا اور انتظامیہ ان کے لال مسجد آنے پر اعتراض بھی نہیں کرے گی۔ ہارون الرشید کے مطابق ہمارا جامعہ حفصہ پر ساڑھے تین کروڑ روپیہ خرچ ہوا ہے، وہ ہمیں دیا جائے گا بصورت دیگر اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں تعمیر ہونے والے جامعہ حفصہ کی حیثیت متنازع رہے گی۔

ضلعی انتظامیہ کا موقف

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے لال مسجد کے معاملات بہتر ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ ایچ الیون میں مدرسہ کا قبضہ دوبارہ حاصل کر لیا گیا ہے اور لال مسجد کا مسئلہ بھی جلد حل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے اس تنازعہ کو بھی حل کر لیا گیا ہے۔ معاہدہ کی شرائط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایچ الیون کے پلاٹ کے متعلق عدالتی آبزرویشن کے بعد وہ پلاٹ انہیں دینا ممکن نہیں ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر ہم نے انہیں جی ٹی روڈ پر پلاٹ دینے کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے نہیں مانا۔ اب اس پر مزید بات چیت کی جائے گی۔ لیکن فی الحال لال مسجد کے گرد موجود سیکیورٹی کو بتدریج معمول پر لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ لال مسجد میں خطیب صرف انتظامیہ کا مقرر کردہ ہو گا۔ مولانا عبدالعزیز بھی لال مسجد کی خطابت سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

تنازعہ ہے کیا؟

اسلام آباد انتظامیہ نے 26 جون 2019 کو لال مسجد کے خطیب عامر صدیق کو عہدے سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد سے یہ عہدہ خالی ہے۔ عامر صدیق، مولانا عبدالرشید کے بھانجے ہیں۔

اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کیے جانے والے خطیب کو بھی مولانا عبدالعزیز کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کیوں کہ وہ خود خطیب بننا چاہتے ہیں۔

مولانا عبدالعزیز 1998 سے 2004 تک خطیب رہے۔ انہیں لال مسجد کے آپریشن کے دوران 2007 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جس کے بعد مولانا عبدالغفار کو خطیب اور عامر صدیق کو عارضی بنیادوں پر نائب خطیب تعینات کیا گیا تھا۔

مولانا غفار نے 2009 میں مولانا عبدالعزیز کی رہائی کے بعد مسجد چھوڑ دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق 6 فروری کو مولانا عبدالعزیز نے پابندی کے باوجود مسجد کا رُخ کیا اور 7 فروری کو یہاں جمعے کا خطبہ بھی دیا۔ جس میں مبینہ طور پر اُنہوں نے اسلامی قوانین کے نفاذ، سود کے خاتمے اور جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے اراضی سمیت دیگر مطالبات کیے تھے۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں قائم 20 کنال کا پلاٹ بھی وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے، جسے عدالتی آبزرویشن کے بعد حکومت نے کینسل کر دیا ہے اور اب وہاں طالبات نے سیل توڑ کر قبضہ کر لیا ہے، جس کی وجہ سے کشیدگی بڑھی تھی۔

نئے مقدمات

مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ ام حسان کے خلاف ماضی میں دہشت گردی کے مقدمات سمیت درجنوں مقدمات درج ہوئے۔ ایک وقت میں ان کے خلاف 27 مقدمات آن ریکارڈ موجود تھے لیکن بیشتر مقدمات کمزور پیروی اور حکومت و پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ختم کر دیے گئے۔

حالیہ دنوں میں بھی مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں حافظ احتشام کی مدعیت میں ایف آئی آر بھی درج کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ ام حسان نے جمعہ کے روز منبر پر کھڑے ہو کر انہیں اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ و پولیس اہل کاروں کو قتل کرنے کے لیے وہاں موجود لوگوں کو اکسایا۔ اسلام آباد پولیس نے یہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس سے قبل ایک اور ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی جس میں مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے ہارون الرشید کے خلاف الزام تھا کہ انہوں نے مسجد کی حدود کے اندر مسلح افراد کے ساتھ مل کر ایک شخص کو دھمکایا اور زبردستی مسجد سے نکلنے پر مجبور کیا۔

مولانا عبدالعزیز کیسے مان گئے؟؟

ماضی میں انتہائی سخت رویہ رکھنے والے مولانا عبدالعزیز اس بار صرف تین سے چار دن کے محاصرہ کے بعد ہی مان گئے اور حکومت کی طرف سے خطابت سے ہٹنے کے ساتھ ساتھ ایچ الیون مدرسہ کا قبضہ بھی چھوڑ دیا ہے۔

اس سلسلے میں ڈان نیوز کے سینئر صحافی قلب علی نے کہا کہ ماضی کی نسبت اس بار مولانا عبدالعزیز کو نہ تو میڈیا سے کوریج ملی اور نہ ہی انہیں اسلام آباد کے عوام کی طرف سے حمایت ملی ہے۔ مولانا عبدالعزیز نے اسلام آباد کے تین مدارس کے علما کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے طلبا کو لال مسجد کے باہر اجتجاج کرنے کے لیے بھیجیں، لیکن تینوں مدارس نے ان کی بات ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق ان کے طلبا صرف تعلیم کے لیے ہیں۔ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ لوکل میڈیا پر ان کا تقریباً بلیک آؤٹ رہا اور کسی بھی چینل یا اخبار نے اس صورت حال کو زیادہ کوریج نہیں دی۔ ماضی میں دن رات کیمرے لگے رہتے تھے، لیکن اس بار کسی میڈیا نے کیمرے بھی نہ بھجوائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے عام شہری جنہیں اس صورت حال کا علم تھا وہ بھی ان کی حمایت میں ساتھ نہیں آئے۔ اس وجہ سے مولانا نے اس تمام صورت حال کو جلد سے جلد ختم کرنے میں عافیت جانی۔ اب انہیں سیکٹر جی سیون میں موجود مدرسہ میں رہنے کی اجازت مل جائے گی۔ جب کہ ایچ الیون میں ہونے والی تعمیرات کے عوض کچھ رقم بھی مل جائے گی جب کہ ایچ الیون والے پلاٹ کی جگہ کسی اور مقام پر بھی زمین مل سکتی ہے۔ لیکن وہ کہاں ہو گی اس بارے میں ابھی حتمی طور پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

مولانا عبدالعزیز خطیب کیوں نہیں؟

لال مسجد آپریشن کے بعد سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس افتخار چوہدری نے مولانا عبدالعزیز کو خطیب لگانے کا کہا تھا اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر وہ خود کو خطیب برقرار رکھنے کا کہتے ہیں۔ لیکن اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اوقاف کی مسجد ہے اور یہاں کا خطیب سرکاری ملازم تصور ہوتا ہے جسے باقاعدہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ لیکن سرکاری ملازم کے لیے عمر کی حد 60 سال ہے۔ مولانا عبدالعزیز کی عمر اس حد سے زیادہ ہے۔

ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کہتے ہیں کہ خطیب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کیا جائے گا اور اس معاملہ پر ابھی بات چیت کی جاری ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مولانا عبدالعزیز 60 سال سے زائد عمر کے ہیں اور اب اگر کوئی عدالتی حکم انہیں خطیب مقرر کرنے کا تھا تو وہ اب لاگو نہیں ہو سکتا۔

لال مسجد آپریشن

لال مسجد اُس وقت دنیا بھر کے میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہی تھی، جب 2007 میں یہاں فوجی آپریشن کیا گیا تھا۔ جس میں مولانا عبدالعزیز کے بھائی عبدالرشید غازی ہلاک ہو گئے تھے۔ البتہ مولانا عبدالعزیز کو اس سے قبل برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس وقت عدالتوں میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 90 سے زائد لوگ اس واقعہ میں ہلاک ہوئے تھے۔ لال مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے واقعے میں درجنوں طالبات کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے گئے تھے لیکن انتظامیہ نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

یہ آپریشن حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے پر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل لال مسجد کے گرد و نواح میں میوزک سنٹرز، چینی مساج سینٹرز اور قحبہ خانوں کے خلاف کارروائیوں کے واقعات سامنے آئے تھے جب کہ لال مسجد میں شرعی عدالت بھی قائم کر دی گئی تھی جسے حکومت نے آئین سے متصادم قرار دیا تھا۔

کئی دن تک جاری رہنے والے اس آپریشن کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کی ایک طویل لہر آئی جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور خیبر پختونخواہ سمیت کئی مقامات پر اسکولوں کو تباہ کر دیا گیا اور اس کی وجہ جامعہ حفصہ کو ختم کرنا بتائی جاتی تھی۔

اس فوجی آپریشن کے بعد حکومت اور مسجد کی انتظامیہ ایک معاہدے پر پہنچے تھے جس کے تحت جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے سیکٹر ایچ الیون میں مدرسے کو 20 کینال جگہ دینے کی نشاندہی کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG