رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد میں 26 علما کے داخلے پر پابندی


جن علما کرام پر اسلام آباد میں تقریر پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں تحریک لبیک پاکستان کے راہنما خادم حسین رضوی, شیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین کے امین شہیدی اور علامہ راجہ ناصر عباس، دیوبندی مسلک اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز بھی شامل ہیں۔

محرم الحرام کے آغاز پر امن وامان برقرار رکھنے اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مختلف مکتبہ فکر کے 26 علماء کرام کے اسلام آباد میں داخل ہونے اور تقریر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

پابندی کی زد میں آنے والوں میں شیعہ،بریلوی ،اہلحدیث اور دیوبندی مکتبہ فکر کے علما شامل ہیں۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب سے اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ کو دستیاب دستاویز کے مطابق جن علما کرام پر اسلام آباد میں تقریر پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں تحریک لبیک پاکستان کے راہنما خادم حسین رضوی بھی شامل ہیں جبکہ شیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین کے امین شہیدی اور علامہ راجہ ناصر عباس پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ دیوبندی مسلک اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز بھی محرم کے ایام میں تقریر نہیں کر سکیں گے۔

جن بارہ علماء کی اسلام آباد میں تقاریر پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں دیو بند مسلک کے چار علماء، مولانا عبدالعزیز، مولانا عبد الرزاق حیدری، مولانا عبد الرحمن معاویہ اور قاری احسان اللہ شامل ہیں۔بریلوی مسلک کے مولانا پروفیسر ظفر اقبال جلالی، مولانا محمد امتیاز حسین کاظمی اور علامہ لیاقت علی رضوی، شیعہ مسلک کے علامہ شیخ محسن علی نجفی، آغا شفیع نجفی، علامہ امین شہیدی اور راجا ناصر عباس، جبکہ اہل حدیث مسلک کے علامہ محمد یونس قریشی کو بھی تقریر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تین مسالک کے چودہ علماء کرام کے اسلام آباد داخلے پر بھی پابندی عائد کی ہے جن میں دیو بند مسلک کے حافظ صدیق، علامہ طاہر اشرف، علامہ اورنگزیب فاروقی، مولانا محمد الیاس گھمن اور مولانا عبدالخلیق رحمانی ،بریلوی مسلک کے مولانا یوسف رضوی المعروف ٹوکہ، مولانا خادم رضوی، پیر عرفان المشھدی، ڈاکٹر اشرف جلالی شامل ہیں۔شیعہ مسلک کے علامہ ذاکر مقبول حسن، حافظ تصدق حسین، علامہ محمد اقبال، علامہ غضنفر تونسوی اور علامہ جعفر جتوئی کو بھی اسلام آباد میں آنے سے روک دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے ان علماء کرام کے داخلے اور تقاریر پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کی ہے۔

پاکستان میں فرقہ ورانہ کشیدگی کے باعث ہر سال محرم الحرام کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی اور مسجد میں اذان و نماز کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی ممانعت کر دی گئی تھی۔

سخت حکومتی اقدامات کے باوجود پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے ہرسال محرم کے دوران دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی بڑا واقعہ پیش آتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG