رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر: بارودی سرنگوں سے آگاہی کے لیے موبائل میسج سروس

  • روشن مغل

فائل

حکامکے مطابق جن علاقوں میں ریڈ کریسنٹ کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکتیں وہاں کے رہنے والوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے اس بارے میں اطلاع دی جائے گی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جنگ بندی لائن سے ملحقہ آبادیوں کے رہائشیوں کو بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز مواد سے خبردار کرنے کے لیے موبائل میسج سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستانی کشمیر کے سرحدی علاقوں میں بارودی سرنگوں سے بچنے کی تعلیم دینے والی غیرسرکاری تنظیم 'پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی' اور وادی میں ٹیلی مواصلات کی سہولتیں مہیا کرنے والے پاک فوج کے ذیلی ادارے 'اسپشل کمیونی کیشن آرگنائزیشن' (ایس سی او) کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے کے تحت 'ایس سی او' اپنے موبائل فون نیٹ ورک 'ایس کام' سے ریڈ کریسنٹ کی طرف سے فراہم کردہ بارودی سرنگ یا کسی دوسرے دھماکہ خیز مواد کے بارے میں حفاظتی پیغام جنگ بندی لائن کے قریب بسنے والے لوگوں کو فراہم کرے گی۔

پاکستانی کشمیر میں 'ریڈکریسنٹ سوسائٹی' کے فیلڈ آفیسر برائے مائن رسک ایجوکیشن عبدالمنان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کنٹرول لائن پر نصب بارودی سرنگیں بارشوں میں سرحدی علاقوں سے بہہ کر آبادی کی طرف آجاتی ہیں جس کے پیشِ نظر حفاظتی ایس ایم ایس سروس شروع کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں ریڈ کریسنٹ کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکتیں وہاں کے رہنے والوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے اس بارے میں اطلاع دی جائے گی۔

ریڈکریسنٹ سوسائٹی 2010ء سے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم کرنے والی جنگ بندی لائن کے قریب پاکستان کے زیرِانتظام علاقوں کے رہائشیوں کو بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز مواد کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے مائن رسک ایجوکیشن پروگرام چلارہی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعض سرحدی علاقوں میں بارودی سرنگوں، جنگ بندی لائن کے پار سے داغے جانے والے لیکن نہ پھٹنے والے گولوں اورکھلونا بموں کے پھٹے سے کئی افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG