رسائی کے لنکس

پاکستان کی 50فی صد دیہی آبادی زمین کے مالکانہ حقوق سے محروم ہے: ذرائع


پاکستان کی 50فی صد دیہی آبادی زمین کے مالکانہ حقوق سے محروم ہے: ذرائع

ضیا الحق کے زمانے میں جاگیر داروں نے شریعت عدالت سے فیصلہ لے لیا تھا کہ اسلام میں کہیں بھی زمین میں حق کی شرط موجود نہیں ۔ إِس لیے، کسی کے پاس کتنی بھی زمین ہو، اُسے رکھا جاسکتا ہے

’آکسفیم‘ کی ڈائریکٹر جنرل فاطمہ نقوی نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق، پاکستان بھر میں 50فی صد سے بھی زیادہ دیہی آبادی کے پاس زمین کے مالکانہ حقوق نہیں ہیں۔

اُنھوں نے یہ بات جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہی۔

میر محمد پڑہیار، محکمہٴ خوراک و زراعت میں سکریٹری کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور آج کل ایک غیر سرکاری تنظیم’ رورل اپلفٹ اینڈ ویلفیئر ایسو سی ایشن‘ چلا رہے ہیں، اور جیسا کہ تنظیم کے نام سے ظاہر ہے کہ وہ دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے فعال ہیں۔

حالاتِ حاضرہ کے پروگرام ’اِن دِی نیوز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ آکسفیم کا منصوبہ اچھا ہے اور اُسے نہ صرف کسانوں کی مالی حالت میں بہتری آئے گی، بلکہ ملکی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔

تاہم، میر پڑہیار ’آکسفیم‘ کے منصوبے کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ زرعی اصلاحات جس طبقے سے قربانی کے متقاضی ہیں، پارلیمان میں اُس کی نمائندہ اکثریت ہے۔ اِس لیے ایسا کوئی قانون وہاں سے منظور ہو اُس کی توقع رکھنا عبث ہے۔

اُن کے الفاظ میں: ’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ناممکن۔ جب تک کہ آپ آئین میں ترمیم نہیں لائیں گے، کچھ نہیں ہوتا۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ سابق صدر ضیا الحق کے زمانے میں جاگیر داروں نے شریعت عدالت سے فیصلہ لے لیا تھا کہ اسلام میں کہیں بھی زمین میں حق کی شرط موجود نہیں ۔ إِس لیے، کسی کے پاس کتنی بھی زمین ہو، اُسے رکھا جاسکتا ہے۔ یہ طبقہ نہیں چاہتا کہ عام آدمی کی معاشی حالت بہتر ہو اور وہ ذہنی طور پر طاقت ور بنے۔’جہاں صورتِ حال یہ ہوگی۔۔۔آپ ہم سوچتے رہیں گے۔ مڈل کلاس کا آدمی سوچتا ہی رہے گا۔ وہ (جاگیر دار) اِن معاملات کی طرف نہیں آتے۔ نہ ہی اُن کا ذہن ہے، نہ سوچ، نہ ہی کسی تبدیلی کا کوئی امکان ہے۔ آکسفام کچھ ہی کوشش کرلے اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے ایسے پراجیکٹس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے عوام میں اُن کے حقوق کا شعور بیدار کیا جائے اور اُن کی طاقت کے ساتھ ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG