رسائی کے لنکس

بے زمین کسانوں کو مالکانہ حقوق دلانے کے لیے ‘‘دھرتی’’ مہم کا آغاز


بے زمین کسانوں کو مالکانہ حقوق دلانے کے لیے ‘‘دھرتی’’ مہم کا آغاز

مہم کا مرکز خاص طور پر زرعی اصلاحات اور خواتین سمیت بے زمین کسانوں میں اراضی کی منصفانہ تقسیم ہوگا جو ادارے کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی بھوک اور غربت کو کم کرنے کے لیے نا گزیر ہے۔

عالمی غیر سرکاری تنظیم آکسفیم نے دیگر کئی تنظیموں کے ساتھ ملکر پاکستان سمیت دنیا کے سینتیس ملکوں میں ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد اقتصادی نا انصافی کے خلاف احتجاج اور غذائی عدم تحفظ کے مسئلے کی سنگینی کو اُجاگر کرنا ہے۔

پاکستان میں ’’دھرتی‘‘ کے نام سے شروع کی گئی اس مہم کا مرکز خاص طور پر زرعی اصلاحات اور خواتین سمیت بے زمین کسانوں میں اراضی کی منصفانہ تقسیم ہوگا جو ادارے کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی بھوک اور غربت کو کم کرنے کے لیے نا گزیر ہے۔

آکسفیم کی پروگرام منیجر فاطمہ نقوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں پچاس فیصد سے بھی زیادہ دیہی آبادی کے پاس زمین کے مالکانہ حقوق نہیں ہیں۔

‘‘اگر بے زمین کسانوں کو ملکیت دے دی جائے تو زمین پر اپنی سرمایہ کاری کریں گے اور مزید دل جمی سے کام کریں گے، اس طرح انھیں غذائی تحفظ حاصل ہو گا اور ملک کی مجموعی زرعی پیداوار بہت بڑھے گی جس سے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی کم ہوں گی’’۔

فاطمہ کا کہنا تھا کہ تمام ترقی پسند ملکوں میں ’’لینڈ ریفارمز‘‘ عمل میں لائے جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ زمین چاہے ریاست کی ہو یا نجی اس کی ملکیت ایک جگہ اکھٹی نا ہو بلکہ منصفانہ طور پر تقسیم ہو تاکہ کسانوں کی غربت اور استحصال ختم ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چالیس فیصد آبادی خط غربت سے نیچے یعنی روزانہ تقریبا سو روپے سے بھی کم پر زندگی بسر کررہی ہے اور غذائی عدم تحفط کا شکار ہے۔

‘‘پاکستان میں غریب گھرانوں کے بحٹ کا اسی فیصد خوارک پر خرچ ہوتا ہے جس سے زراعت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے’’۔

بے زمین کسانوں کو مالکانہ حقوق دلانے کے لیے ‘‘دھرتی’’ مہم کا آغاز
بے زمین کسانوں کو مالکانہ حقوق دلانے کے لیے ‘‘دھرتی’’ مہم کا آغاز

دھرتی مہم کے تحت پاکستان بھر سے بے زمین کسانوں کے نمائندوں اور ان کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے مل کر ایک میثاق تیار کیا ہے جس میں غریب کسانوں کو مالکانہ حقوق دلانے، انھیں جاگیرداروں کے مبینہ استحصال سے بچانے، بے زمین ہاریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں کسان عدالتوں کے قیام اور خاص طور پر ان کسانوں کی تکالیف کے ازالے کا مطالبہ کیا گیا ہے جنھیں گذشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کے بعد زمینوں پر قبضے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

مطالبات پر مبنی یہ دستاویز حکومت کو پیش کی جائے گی۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ غریب کسانوں میں زمین کی تقسیم سمیت زرعی اصلاحات پر غور کر رہی ہے لیکن اس پر عمل درآمد صوبائی حکومتوں کی بھی ذمے داری ہے۔

انجمن مزارین پنجاب کے سربراہ اور مہم کے رکن کریسٹوفر جان کا کہا ہے ‘‘بے زمین کسان اور ان کے آباو اجداد برطانوی راج کے زمانے سے زمینوں پر کام کر رہے ہیں اب ان کا بھی حق بنتا ہے کہ انھیں مالکانہ حقوق دیے جائیں’’۔

دھرتی مہم کے سلسلے میں اسلام آباد میں عالمی تنظیم کے زیر اہتمام اپنی نوعیت کا ایک انوکھا مظاہرہ ہوا جس میں نوجوانوں نے مختلف گاڑیوں پر پینٹنگ کے ذریعے بے زمین ہاریوں کے مسائل کی عکاسی کی۔

نوجوان مصوروں نے رنگ بکھیر کر کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ’’لینڈ ریفارمز‘‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

بے زمین کسانوں کو مالکانہ حقوق دلانے کے لیے ‘‘دھرتی’’ مہم کا آغاز
بے زمین کسانوں کو مالکانہ حقوق دلانے کے لیے ‘‘دھرتی’’ مہم کا آغاز

چھوٹی بڑی گاڑیوں پر آویزاں پرکشش پینٹنگز کو شہر کے مختلف حصوں میں لے کر جایا جائے گا اس اسی قسم کی سرگرمیاں ملک کے دوسرے شہروں میں بھی منعقد کی جائیں گی تاکہ ارباب اختیار سمیت ہر طبقے کی توجہ ان مسائل کی طرف دلائی جا سکے۔

XS
SM
MD
LG