رسائی کے لنکس

logo-print

نائب کلبوں اور کسینوز کے شہر کے مسلم تارکین وطن


لاس ویگس میں بل بورڈ میوزک ایوارڈ کی تقریب کا ایک منظر، یکم مئی 2019

امریکی ریاست نواڈا کے شہر لاس ویگس کو اکثر اوقات 'سن سٹی' گناہ کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں لوگوں کے طرز زندگی میں اخلاقی پستی کا عنصر غالب ہے۔ لیکن کچھ افغان تارکین وطن، جو خاصی مذہبی زندگیاں گزار رہے ہیں، جوئے بازی کے اس مرکز کے بارے میں مختلف سوچ رکھتے ہیں۔

لاس ویگس بولیوارڈ جو لاس ویگس پٹی کے طور پر بھی معروف ہے، شہر کے ٹھیک درمیان سے گزرتی ہے۔ یہ اپنے تفریحی ماحول کی وجہ سے مشہور ہے۔ جوئے خانوں، صاف ستھری عمارات اور ہوٹلوں سے گھری اس سڑک پر چلتے ہوئے تقریباً ایسا لگتا ہے گویا آپ ہالی ووڈ کی کسی فلم کا کوئی حصہ ہیں۔

یہاں مقیم کئی لوگ جوئے خانوں اور کلبوں کو شاندار قرار دے کر لوگوں کو تفریح کے لیے یہاں آنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

یہاں تفریح کے بہت سے مواقع ہیں، طرز زندگی خاصا اچھا ہے، بہت مصروف زندگی ہے۔

لیکن سیاحوں سے بھری لاس ویگس کی اس پٹی سے باہر زندگی مختلف ہے، جہاں ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنی مذہبی روایات کے مطابق معمول کی زندگیاں گزارتے ہیں۔

کچھ مٹھی بھر افغان مسلمان لاس ویگاس میں رہتے ہیں۔ احمد شکیب کہتے ہیں کہ متصادم مذہبی اقدار کے باوجود لاس ویگاس میں لوگ روایتی اور مذہبی زندگیاں بسر کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان گھرانوں نے اپنا ثقافتی ورثہ برقرار رکھا ہوا ہے اور ان کے بچے اپنی ثقافت اور مذہب سے بندھے ہوئے ہیں۔

شکیب ایک گراسری اسٹور چلاتے ہیں اور ان کا اسٹور مقامی افغانوں میں یہ احساس اجاگر کرتا ہے کہ گویا وہ اپنے آبائی وطن میں ہیں۔

اسٹور میں موجود ایک خریدار خاتون زوحل کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہم کسی دوسری ریاست میں دوسرے اسٹوروں پر خریداری کرتے تھے۔ ہم بہت دور کے مقامات پر جا کر شاپنگ کرتے تھے، مثلاً کینیڈا اور لاس اینجلس۔ لیکن اب میں خوش ہوں کہ ہماری ریاست میں یہ اسٹور ہے اور ہمارے گھروں کے قریب ہے۔

لاس ویگس کے ایک مختلف کونے میں، افغانوں کے ملبوسات کے کئی اسٹور ہیں جو افغان اور جنوبی ایشیا کے دوسرے روایتی لباس فروخت کر رہے ہیں۔ ملالائی کوہستانی لگ بھگ چالیس سال سے اپنی بوتیک شاپ چلا رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ لاس ویگس میں رہنا ان کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہاں ہر ایک اچھی زندگی گزار رہا ہے۔ اگر آپ یہ سنتے ہیں کہ لاس ویگس صرف گناہ کا ایک شہر ہے تو ایسا نہیں ہے۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا، لیکن میں گزشتہ دس برسوں میں کبھی کسی کسینو میں نہیں گئی۔

مسعود انصاری اپنے تین بھائیوں کے ساتھ کار ڈیلر شپ کا ایک مرکز چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لاس ویگاس میں رہنے سے ان کی مذہبی زندگی متاثر نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک اچھا مسلمان رہنا اور ایک اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو وہ یہاں بھی اسی طرح کر سکتا ہے جیسا کہ وہ افغانستان میں رہتے ہوئے کر سکتا تھا۔ لیکن ظاہر ہے کہ آپ کے اپنے ملک کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے اور میری خواہش ہے کہ میں کسی دن واپس اپنے ملک جاؤں۔

لاکھوں لوگ ہر سال تفریح کے لیے لاس ویگس جاتے ہیں،لیکن لاس ویگس میں ان تفریحات سے ہٹ کر اپنے مذہبی عقائد اور روایات کے مطابق زندگی گزارنے والے لوگ بھی یہاں آباد ہیں اور انہیں وہاں ایک اچھی زندگی میسر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG