رسائی کے لنکس

لاس ویگاس شوٹنگ: 58 افراد ہلاک، 500 سے زائد زخمی


فائرنگ سے بچنے کے لیے خوف زدہ شہری پناہ کی تلاش میں بھاگ رہے ہیں

لاس ویگاس کے منڈالے بے ہوٹل میں 32 ویں منزل کی کھڑکی سے حملہ آور نے ہزاروں کے مجمع پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ یہ شوٹنگ کئی منٹ تک جاری رہی۔

دس رائفلوں سے مسلح ایک 64 سالہ شخص نے لاس ویگس میں اتوار کے روز موسیقی کے ایک کنسرٹ میں فائرنگ کر کے کم سے کم 58 لوگوں کو ہلاک اور 500 سے زیادہ کو زخمی کر دیا۔ یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز شوٹنگ کا واقعہ ہے۔

لاس ویگاس کے منڈالے بے ہوٹل میں 32 ویں منزل کی کھڑکی سے اس شخص نے 22, 000 کے مجمع پر اندھا دھند گولیاں برسائیں ۔ یہ شوٹنگ کئی منٹ تک جاری رہی۔ جان بچانے کی خاطر ہونے والی بھگدڑ میں بہت سے لوگ قدموں تلے روندے گئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور شخص 64 سالہ اسٹیفن پیڈک ہے جو ریاست نیواڈا کی ایک رٹائرمنٹ کمیونٹی میں رہتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس شوٹنگ کے محرکات کا ابھی علم نہیں ہو سکا۔ اس شخص کا کوئی کریمنل ریکارڈموجود نہیں ہے اور پولیس کے مطابق اس کے کسی عسکریت پسند گروپ سے تعلق کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔

داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا ابھی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

کلارکس کاؤنٹی کے شیرف جوزف لمبارڈو نے بتایا ہے کہ جس کمرے سے حملہ آور شخص نے گولیاں براسائیں، وہاں دس سے زائد رائفلیں اور کم از کم ایک مشین گن پائی گئی۔ حملہ آور شخص نے شوٹنگ کے بعد اسی کمرے میں خود کشی کر لی۔

لاس ویگاس کے شامل مشرق میں 90 میل کے فاصلے پر نیواڈا میں واقع حملہ آور شخص کے گھر سے متعدد دیگر ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ نیواڈا امریکہ کی اُن ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں ذاتی طور پر ہتھیار رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ہتھیار رکھنے کیلئے لائسنس رکھنا یا اُنہیں رجسٹر کرانا بھی لازمی نہیں ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جو اپنی چھٹی کے دن کانسرٹ میں شریک تھے۔

پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے اعلان کے مطابق پولیس کا خیال ہے کہ علاقے میں کوئی اور حملہ آور موجود نہیں ہے۔

اس سے قبل بعض عینی شاہدین نے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد دو تھی جنہوں نے بظاہر ہوٹل کی بالائی منزل سے نیچے کانسرٹ میں موجود افراد پر فائرنگ کی تھی۔

جوزف لمبارڈو نے بتایا کہ ایک ایشیائی نژاد خاتون کو تلاش کیاجارہا ہےجسے ملزم کے ہمراہ ہوٹل میں دیکھا گیا تھا۔ خاتون کی تصویر بھی پولیس نے جاری کی ہے ۔

حکام کے مطابق واقعہ 'راؤٹ 91 ہارویسٹ فیسٹول' کے عنوان سے ہونے والے لوک موسیقی کے تین روزہ میلے کے اختتامی لمحات میں پیش آیا جس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔

کانسرٹ میں موجود ایک شخص نے واقعے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی ہے جس میں ہوٹل کے باہر ہونے والے کانسرٹ میں لوک گلوکار جیسن آلڈین اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ اسی دوران فائرنگ کی آواز آتی ہے اور کانسرٹ میں بھگدڑ مچ جاتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق جیسن آلڈین کانسرٹ کے آخری گلوکار تھے جنہیں ویڈیو میں فائرنگ کے بعد اسٹیج پر بیٹھتے اور فائرنگ سے بچنے کے لیے آڑ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں میلے میں شریک تمام گلوکار اور فن کار محفوظ رہے ہیں۔

لاس ویگاس پولیس کے مطابق پولیس کو فائرنگ کی اطلاع مقامی وقت کے مطابق 10:45 کے لگ بھگ ملی تھی جس کے فوراً بعد پولیس کے خصوصی دستے جائے واقعہ پہنچ گئے تھے۔

لاس ویگاس پولیس نے واقعے کے بعد کثیر المنزلہ منڈالے کسینو اینڈ ہوٹل کو خالی کرالیا ہے اور اس کی تلاشی لی جارہی ہے۔

پولیس نے لاس ویگاس کی مرکزی شاہراہ کو ایک میل تک آمد و رفت کے لیے بند کردیا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے سے دور رہیں۔

جائے واردات کے نزدیک ہی واقع لاس ویگاس کے مک کارن ہوائی اڈے کی انتظامیہ کے مطابق پولیس کی کارروائیوں کے باعث ایئر پورٹ پر اترنے والی بعض پروازوں کو دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب سے بھیج دیا گیاہے۔

امریکہ کی ریاست نیواڈا میں واقع لاس ویگاس اپنے جوے کے اڈوں، شاپنگ مراکز اور تفریحی مراکز کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے اور ہر سال کروڑوں سیاح دنیا بھر سے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG