رسائی کے لنکس

لاس ویگاس میں امدادی سرگرمیاں جاری


یونیورسٹی آف نیواڈا میں شوٹنگ کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی جا رہی ہیں۔

متاثرین اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے انٹر نیٹ پر قائم ایک فنڈ میں منگل کے روز 40 لاکھ  ڈالر سے زیادہ اکٹھے ہوئے اور مقامی عہدے دار لوگوں سے خون کے عطیات دینے کے لیے پہلے سے وقت لینے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ خون کے مراکز پر لمبی قطاریں لگی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بدھ کے روز لاس ویگاس کا دورہ کر رہے ہیں جب کہ وہاں تفتیش کار یہ پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک مسلح شخص نے ہوٹل کے ایک کمرے سے نیچے سڑک پر منعقدہ موسیقی کی ایک تقریب پر وہ حملہ کیوں کیا جس میں کم از کم 58 افراد ہلاک ہوئے اور خود بھی مارا گیا۔

عہدے داروں کو توقع ہے کہ پیڈک کی گرل فرینڈ ان کی تفتیش میں مدد دے سکتی ہے ۔ وہ حملے کے وقت فلپائن میں تھی اور منگل کی رات امریکہ واپس پہنچی۔

لاس اینجلس انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر ایف بی آئی کے اہل کاروں نے اس سے ملاقات کی۔ لاس ویگاس کے شیرف جوزف لومبارڈونے ماریلو ڈینلی کے بارے میں بتایا کہ وہ بظاہر ایک دلچسپ شخصیت ہے۔

شیرف نے ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ پیڈک نے قتل عام سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے ایک لاکھ ڈالر فلپائن بھیجے تھے لیکن یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ وہ رقم کس کے لیے تھی۔

تفتیش کار ابھی تک یہ معمہ حل نہیں کر سکے ہیں کہ پیڈک نے، جو مالی طور پر خوشحال تھا اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ یا بظاہر کوئی سیاسی یا مذہبی رابطے بھی نہیں تھے، وسیع پیمانے کی یہ شوٹنگ کیوں کی ہو گی ۔شیرف نے ان میں سے کچھ تفصیلات فراہم کیں جو اب تک تفتیش کار وں کو معلوم ہو چکی ہے۔

وائس آف امریکہ کے مائک اوسولیوین نےاپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ لاس ویگاس، جو اب اتوار کی شوٹنگ کے واقعے کے بعد بحال ہو رہا ہے ، وہاں بڑی تعداد میں لوگ خون کے عطیات دینے کے لیے طبی مراکز پر قطاروں میں کھڑے ہو رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک مرکز کے ایمرجینسی روم میں ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی ایک نرس ین مونوز نے کہا کہ وہ خود بھی خون کا عطیہ دے رہی ہیں اور وہ کمیونٹی کے رد عمل سے بہت متاثر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں بس یہ ہی سوچ رہی تھی کہ یہاں کتنے مختلف قسم کے لوگ آ رہے ہیں، ہر ایک کو اکٹھا ہوتے ہوئے اور کچھ اچھا کرتا ہوا دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے کیوں کہ ہم سب اپنی ذات کے اندر قدرے ایک جیسے ہی ہیں ۔

ایک ریستوران کے مالک اسٹیون کولی جو کئی گھنٹے سے خون دینے کے انتظار میں لائن میں کھڑے تھے، کہتے ہیں کہ خون دینے کی یہ مہم ظاہر کرتی ہے کہ لاس ویگاس میں صرف کیسینو (جوا خانے) ہی نہیں ہیں۔

ان کا کنہا تھا کہ یہاں ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کی فکر کرتے ہیں، یہاں اسکول اور چرچ اور خاندان اور کمیونٹیز ہیں جو مدد کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر اکٹھے ہونے کے لیے تیار ہیں۔

ویت نام سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہان نگوین کہتی ہیں کہ ان کے پاس رقم نہیں تھی، لیکن وہ زخمیوں کے لیے خون کا عطیہ دینے پر خوش ہیں۔

ایمرجینسی روم کی نرس یون مونوز کہتی ہیں کہ اگرچہ مسلح شخص کے محرک ابھی تک پتا نہیں چلا، لیکن یہ واقعہ اس چیز کو اجاگر کرتا ہے کہ بہت سی کمیونٹیز میں نفسیاتی دیکھ بھال کا فقدان ہے ۔ خون کا عطیہ دینےوالی ایک اور کانتون ، رینی لی کا بھی یہ ہی خیال تھا۔

میں جانتی ہوں کہ یہ مشکل ہے کیوں کہ آپ کو پتا نہیں ہوتا کہ کوئی کیا سوچ رہا ہے لیکن اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو اسے اس راستے پر جانے سے قبل نفسیاتی مدد لینی چاہیے یا مدد لینے کی کوشش کرنی چاہیے یا اپنے خاندان سے یا کسی دوست سے بات کرنی چاہیے۔

خون کے عطیات جمع کرنے والے ایک اہلکار مٹزی ایج کومب کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ واقعی اچھے ہیں اور وہ اچھے کام کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمیں اس قسم کا کوئی واقعہ اکٹھا کرتا ہے لیکن اس وقت ہم جو متحدہ محاذ بنا رہے ہیں وہ شاندار ہے۔

متاثرین اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے انٹر نیٹ پر قائم ایک فنڈ میں منگل کے روز 40 لاکھ ڈالر سے زیادہ اکٹھے ہوئے اور مقامی عہدے دار لوگوں سے خون کے عطیات دینے کے لیے پہلے سے وقت لینے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ خون کے مراکز پر لمبی قطاریں لگی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG