رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: خواتین قیدیوں کے مبینہ تشدد سے جیل وارڈن ہلاک


بلوچستان کی مختلف جیلوں میں 35 قیدی موجود ہیں۔

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع گڈانی جیل میں قید غیر ملکی خواتین نے جیل وارڈن کو گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا۔ حکام نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

جیل کے عملے کو منگل کی صبح جیل وارڈن زویا کی لاش روس کے شورش زدہ صوبے چیچنیا سے تعلق رکھنے والی قیدی خواتین کے وارڈ سے ملی۔ جیل وارڈن کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی اسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔

گڈانی میں تعینات پولیس انسپکٹر عطااللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ زویا کے سر پر پہلے کسی آہنی چیز سے ضرب لگائی گئی۔ اس کے بعد اُنہیں گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔

عطااللہ نے وی او اے کو بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے پر قیدیوں کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔

کوئٹہ میں موجود ڈپٹی انسپکٹر جیل خانہ جات حمیداللہ نے وی او اے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قیدی خواتین چیچنیا سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں اُن کے بچوں کے ہمراہ فارن ایکٹ کے تحت قید میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان قیدیوں کو یہاں سے کراچی اور بعد میں ان کے اپنے آبائی وطن بھیجا جانا تھا لیکن قتل کے اس واقعے کے بعد اب ان سے مزید تحقیقات ہوں گی۔

ڈی آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ گڈانی جیل میں چیچنیا کی چار خواتین اور اُن کے پانچ بچے قید ہیں۔ یہ خواتین اور بچے سات ماہ قبل روس سے افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

ڈی آئی جی کے بقول عدالت میں پیشی کے بعد انہیں اپنے ملک بھیجنے کے لیے کراچی کے قریب گڈانی جیل میں رکھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ صوبائی محکمۂ جیل خانہ جات کے مطابق بلوچستان کی مختلف جیلوں میں اس وقت تک تقریباً 35 غیر ملکی افراد قید ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

مئی 2011 میں کوئٹہ کے نواحی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے چیچنیا سے تعلق رکھنے والی تین خواتین اور دو مردوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG