رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں داعش کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے کارروائی کی جائے گی: امریکہ


ترجمان کے مطابق، ’’لڑائی مشکل ہوگی، لیکن ہم اور ہمارے پارٹنر ضرور حاوی پائیں گے‘‘؛ اور یہ کہ ’’حملے کی صورت میں امریکہ، اتحاد اور ساتھیوں کی افواج اپنا دفاع کریں گی‘‘

شام میں داعش کے محفوظ ٹھکانوں کا صفایا کرنے کے لیے، امریکہ عالمی اتحاد اور مقامی ساجھے داروں سے مل کر کارروائیاں شروع کرنے والا ہے، جن کارروائیوں میں ’سیرئن ڈیموکریٹک فورسز‘ بھی شامل ہوں گی۔

ایک بیان میں امریکی محکمہٴ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ مشن کا مقصد شام میں داعش کے محفوظ ٹھکانوں کا صفایا کرنا ہے۔

ترجمان کے مطابق، ’’لڑائی مشکل ہوگی، لیکن ہم اور ہمارے پارٹنر ضرور حاوی پائیں گے‘‘؛ اور یہ کہ ’’حملے کی صورت میں امریکہ، اتحاد اور ساتھیوں کی افواج اپنا دفاع کریں گی‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’وہ وقت چلا گیا جب داعش علاقے پر کنٹرول کیا کرتی تھی اور شام کے عوام میں دہشت پھیل جاتی تھی‘‘۔

اس سلسلے میں، ترجمان نے کہا کہ ’’امریکہ نیٹو کے اپنے اتحادی ترکی اور ہمارے پارٹنرز اسرائیل، اردن، عراق اور لبنان سے مل کر کام کرے گا، تاکہ اُن کی سرحدوں کو داعش سے محفوظ بنایا جا سکے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم چاہیں گے کہ علاقے کے ہمارے ساتھی اور اتحادی افواج، اسلحے اور وسائل کے اعتبار سے اپنا جائز حصہ ڈالیں تاکہ واگزار کرائے گئے علاقوں میں استحکام برقرار رکھا جاسکے‘‘۔

ترجمان نے امریکی صدر کے اُن کلمات کا حوالہ دیا جو اُنھوں نے فرانس کے صدر امانوئیل مکخواں کے ہمراہ ادا کیے تھے، ’’جن میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ہم شام میں مضبوط اور دیرپا نتائج کے حصول کا عزم رکھتے ہیں، اس طرح کہ داعش پھر کبھی اُن علاقوں میں سر نہ اٹھا سکے، آبادی کی طرف واپس نہ آ سکے، اور اسد حکومت یا اُس کے ایرانی حمایتی کسی طور پر کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں‘‘۔

ہیدر نوئرٹ نے کہا کہ ’’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے تحت جنیوا عمل کو بحال کیا جائے گا، اور بین الاقوامی وسائل فراہم کیے جائیں گے، تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شام کی ضروریات پوری کی جا سکیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’امریکہ اس عزم پر قائم ہے کہ آئندہ کا سیاسی تصفیہ عمل میں لایا جاسکے، جس کی بدولت تمام شامیوں کی خواہشات پوری ہوں، جن میں سنی عرب، کُرد، مسیحی، ترکمان اور دیگر اقلیتیں شامل ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG