رسائی کے لنکس

شامی اہداف پر کارروائی میں امریکہ اور اتحادیوں نے ’سرخ لکیروں‘ کا خیال رکھا: لاوروف


روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعے کے روز کہا ہے کہ روس نے گذشتہ ہفتے امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی جانب سے فضائی کارروائیوں کے مقامات کے بارے میں پوچھا تھا اور اُن علاقوں میں کارروائیوں سے گریز کیا تھا۔

لاوروف نے کہا کہ حالانکہ روس اور امریکہ کے مابین تناؤ میں اضافہ ہوتا رہا ہے، دوما کے قصبے میں مشتبہ کیمیائی حملوں کے جواب میں شامی صدر بشار الاسد کے اہداف کو نشانہ بناتے ہوئےامریکہ نے اِس بات کو یقینی بنایا کہ روسی عملے اور ’پوزیشنیز‘ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

روس کے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں لاوروف نے کہا کہ ’’ہم نے اُنھیں بتایا تھا کہ ہماری ’سرخ لکیریں‘ کون سی ہیں، جن میں ’جغرافیائی ریڈ لائنیں‘ بھی شامل تھیں’’۔

شام سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی، استفان ڈی مستورا کے ہمراہ ماسکو میں جمعے کے روز ایک مشترکہ اخباری کانفرنس کرتے ہوئے، لاوروف نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے فضائی کارروائیوں کے دوران ’’نہ صرف شام میں خیالی کیمیائی تنصیبات پر بمباری کی، بلکہ اُنھوں نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات پر بھی بم برسایا‘‘۔

دریں اثنا، امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے جمعے کے روز اسد کو متنبہ کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال جاری رکھ کر وہ ’’بین الاقوامی برادری کو نظرانداز کرنے کے عمل میں مبتلہ ہوں گے‘‘، جو ایک جنگی جرم اور بین الاقوامی قانون کی رو سے ممنوع عمل ہے۔

میٹس نے مزید کہا کہ ’’ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق اُن کے تحقیقی مرکز اور انجنیئرنگ کے حصے پر افسوس ناک لیکن ضروری حملہ تھا، جس کی مکمل حمایت کی گئی‘‘۔

پینٹاگان کی خاتون ترجمان دانا وائٹ نے جمعرات کے روز کہا کہ اس بات کا کوئی عندیہ نہیں کہ شام کی فوج ایک اور کیمیائی حملے کی تیاری کر رہی ہے، لیکن امریکہ اور اُس کے اتحادی ’’چوکنہ ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG