رسائی کے لنکس

logo-print

’ہم متحد ہیں، ایک ہیں،اور سبھی ایک دوسرے کے لیے ہیں‘


لندن میں نیٹو ملکوں کا سربراہ اجلاس اس دفاعی اتحاد کے مستقبل کی ترجیحات اور اختلافات دور کرنے پر غور کے ساتھ ختم ہو گیا۔ نیٹو ملکوں کے سربراہوں نے اس عزم کو دوہرایا کہ 29 رکن ملکوں میں سے کسی پر بھی حملے کی صورت میں،جواب متحد ہو کر دیا جائے گا۔

نیٹو کی 70ہویں سالگرہ کے موقعے پر ہونے والے اجلاس میں رکن ملکوں کے سربراہوں نے اعلان کیا کہ سیاسی فیصلہ سازی کا جائرہ لینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

کمیشن کی تشکیل کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کی اس ضرورت فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں کے حالیہ بیان کی بنا پر پیش آئی، جس میں انھوں نے نیٹو کو ’ذہنی لحاظ سے مردہ‘ قرار دیا تھا۔

اجلاس کے اختتام پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژاں اسٹولٹن برگ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’ہم متحد ہیں۔ سب ایک ہیں۔ اور سبھی ایک دوسرے کے لیے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم اتحاد کی متحدہ دفاعی شق نمبر 5 پر عمل درآمد کے لئے پر عزم ہیں، جو ناقابل تسخیر ہے‘۔

سربراہ اجلاس سے قبل، فرانس کے صدر میکخواں نے امریکی قیادت کی عدم موجودگی کی شکایت کی تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے اس بیان کو ’انتہائی نا مناسب‘ قرار دیا تھا، جب کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ میکخواں خود ’ذہنی طور پر مفلوج ہیں‘۔


سربراہ اجلاس کے دوران شمالی شام میں ترکی کی کرد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ میکخواں نے شکایت کی کہ ٹرمپ نے نیٹو کے اتحادیوں کو خبردار کیے بغیر علاقے سے امریکی فوجوں کا انخلا کیا، جس اقدام کے نتیجے میں ترکی کو موقعہ ملا کہ وہ علاقے میں اپنی فوج بھیجے۔اس پر یورپی یونین کے ملکوں کو پریشانی لاحق ہوگئی کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔

زیادہ تر یورپی ملکوں کو تشویش ہے کہ ترکی کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں فرار ہو جانے والے انتہاپسند مسلح افراد کہیں تارکین وطن کی شکل میں یورپ کا رخ نہ کریں۔

بدھ کو نیٹو سربراہان کا بند کمرہ اجلاس منعقد تقریباً تین گھنٹے جاری رہا۔ اجلاس کے بعد اس سے متعلق اعلامیہ جاری کیا گیا۔

فرانس اور جرمنی کی خواہش تھی کہ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں نیٹو کا کردار بڑھانے پر بات کی جائے۔

نیٹو اجلاس میں پہلی مرتبہ چین کو بھی تنبیہ کی گئی کہ بیجنگ کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر نظر رکھی جارہی ہے۔

سربراہان مملکت کے درمیان روایتی زمینی، سمندری اور فضائی لڑائیوں کے لیے تیاریاں کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ نیٹو اجلاس میں دو بنیادی طور پر دو موضوعات پر بحث ہوئی، جس میں اتحاد کے بجٹ اور دفاعی اخراجات اور ترکی کے دیگر نیٹو اراکین سے تعلقات کا معاملہ شامل تھا۔

اس سے قبل منگل کو ابتدائی ریمارکس میں برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا کہ جب تک ہم ایک ساتھ ہیں، کوئی ہمیں شکست دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اجلاس کے دوران۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اجلاس کے دوران۔

اجلاس کے بعد بکنگھم پیلس میں سربراہانِ مملکت کی دعوت بھی کی گئی۔

منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکخواں سے ملاقات کی اور ان کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس بھی کی۔

علاوہ ازیں فرانسیسی صدر کی ترک ہم منصب رجب طیب ایردوان، جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔

فرانسیسی صدر نیٹو پر تنقید کے بعد سے خبروں میں ہیں۔ انہوں نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے اسے "ذہنی لحاظ سے مردہ" قرار دیا تھا، جس کے بعد منگل کو ان سے ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے ان کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے "بے وقوفانہ" بیان قرار دیا تھا۔

نیٹو ایک 29 ملکی فوجی اتحاد ہے جو 1949 میں قائم کیا گیا تھا۔ نیٹو کے ساتھی ارکان امریکہ اور ترکی گذشتہ ماہ شمالی شام میں محاذ آرائی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے، جس کے نتیجے میں اتحاد میں دراڑیں نظر آ رہی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG