رسائی کے لنکس

logo-print

رفیق حریری قتل کیس میں حزب اللہ کا ایک رکن ذمہ دار قرار، تین بری


فائل فوٹو

لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل نے حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم سلیم جمیل عیاش کو قتل کا منصوبہ بنانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے جب کہ دیگر تین کو الزامات سے بری کر دیا ہے۔

نیدر لینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عدالتی ٹربیونل نے منگل کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سلیم جمیل عیاش کا تعلق 'ریڈ سیل فون نیٹ ورک' سے تھا جو لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری کے قتل کے منصوبے میں ملوث ہے۔

ٹربیونل نے دیگر تین ملزمان اسد صبرا، حسین عنیسی اور حسن حبیب میری سے متعلق قرار دیا ہے کہ ان کے خلاف دھماکے میں ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

عدالتی ٹربیونل نے ملزمان کی غیر موجودگی میں رفیق حریری قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔

ٹربیونل کی ویب سائٹ کے مطابق رفیق حریری کے قتل کیس میں نامزد چار مشکوک افراد کے خلاف دہشت گردی کا منصوبہ بنانے اور قتل سمیت دیگر الزامات کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی ٹربیونل قائم کیا گیا تھا۔

ٹربیونل کے جج ڈیوڈ ری نے قرار دیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ رفیق حریری کا قتل سیاسی عمل تھا۔

انہوں نے کہا کہ شام اور حزب اللہ سمیت ان کے بعض سیاسی اتحادی رفیق حریری کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔ تاہم ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہو کہ لبنان کے سابق وزیرِ اعظم کے قتل میں حزب اللہ کی قیادت ملوث ہے۔

یاد رہے کہ لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری 14 فروری 2005 کو بیروت میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک وین نے رفیق حریری کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔

لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری (فائل فوٹو)
لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری (فائل فوٹو)

اس حملے میں حریری کے علاوہ مزید 21 افراد ہلاک اور 226 زخمی ہو گئے تھے۔

دھماکے میں ملوث ہونے کے شبہے میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن کا تعلق حزب اللہ سے ہے۔

خصوصی عدالت کے جج ڈیوڈ ری نے منگل کو 2600 صفحات پر مشتمل فیصلے کا خلاصہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا ہے کہ یہ شواہد بھی نہیں ملے کہ شام کی حکومت حریری کے قتل میں براہِ راست ملوث تھی۔

بیروت میں دو ہفتے قبل ہونے والے خوف ناک دھماکے کی وجہ سے اس فیصلے کے اعلان میں تاخیر ہوئی تھی۔ بندرگاہ پر ہونے والے مذکورہ دھماکے کے نتیجے میں 180 کے لگ بھگ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹربیونل کے فیصلے سے لبنان میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ رفیق حریری سنی مکتبہ فکر کے اہم سیاست دان سمجھے جاتے تھے جب کہ ایران نواز حزب اللہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔

اس مقدمے کا محور حزب الله سے منسلک مذکورہ چار افراد ہی تھے جن پر الزام تھا کہ وہ اس دھماکے میں ملوث ہیں اور چاروں ملزمان کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مرکزی ملزم 56 سالہ سلیم عیاش کا موبائل فون اس کارروائی میں استعمال ہوا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وہ ان شواہد سے مطمئن نہیں کہ حسن حبیب مرعی اور اسد حسان صبرا نامی ملزمان کے فون بھی اس کارروائی میں استعمال ہوئے۔

مذکورہ عدالتی کارروائی کے دوران 415 سماعتیں ہوئیں جب کہ 297 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ اس ٹرائل کا آغاز 2014 میں ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG