رسائی کے لنکس

logo-print

لبنان: رفیق حریری کی ہلاکت سے بیروت دھماکوں تک


(فائل فوٹو)

لبنان کا دارالحکومت بیروت منگل کو زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب ملک کو گزشتہ کئی سالوں سے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔

لبنان میں 2005 میں سابق وزیر اعظم رفیق حریری کی بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد بھی ملک میں کئی اہم واقعات رُونما ہوئے۔

گزشتہ چند برسوں سے ملک میں کرپشن اور بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کے باعث بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں۔

آئیں 2005 سے لے کر اب تک لبنان میں پیش آنے والے اہم واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔

رفیق حریری کا قتل، 14 فروری 2005

چودہ فروری 2005 کو بیروت کے ساحل پر سابق وزیراعظم رفیق حریری کے بکتربند قافلے پر ایک بڑا خودکش حملہ ہوا جس میں وہ اور 21 دیگر افراد ہلاک ہو گئے۔

حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اس حملے کا ذمہ دار شام کو قرار دیا لیکن دمشق نے اس حملے میں کسی بھی کردار کی تردید کی۔

بعض حلقوں نے لبنان کی طاقت ور شیعہ تحریک حزب اللہ پر بھی اس حملے میں ملوث ہونےکا بھرپور شبہہ ظاہر کیا۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ایک ٹرییونل نے رفیق حریری قتل کیس میں آئندہ جمعے کو چار ملزمان سے متعلق اپنا فیصلہ سنانا تھا جسے بیروت دھماکوں کے بعد موخر کر دیا گیا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ملزمان کو حوالے کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔

سابق وزیر اعظم رفیق حریری (فائل فوٹو)
سابق وزیر اعظم رفیق حریری (فائل فوٹو)

چھبیس اپریل کو مظاہرین کے بھرپور احتجاج کے بعد شام کے فوجی دستے لبنان سے نکل گئے جو 29 سال سے یہاں تعینات تھے اور ان کی تعداد 40 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

اسرائیل، حزب اللہ جنگ، 2006

جولائی 2006 میں حزب اللہ نے اسرائیل کے دو فوجیوں کو گرفتار کر لیا جس کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فوجی تصادم شروع ہو گیا۔

34 روز تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں 1400 کے قریب جانیں گئیں، مارے جانے والوں میں سے 1200 لبنانی تھے۔

اکتوبر میں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کا علاقہ خالی کیا اور اقوامِ متحدہ کی فوج کی مدد سے لبنانی فوج 40 سال کی عدم موجودگی کے بعد سرحدی علاقے میں تعینات ہوئی۔

حزب اللہ حکومت میں

مئی 2008 میں بیروت اور دیگر علاقوں میں حزب اللہ کے جنگجو اور حکومتی حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک سو کے قریب لوگ مارے گئے۔

ایک نئی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے مذاکرات کے بعد لبنان میں جولائی 2008 میں 30 ارکان پر مشتمل متحدہ حکومت تشکیل دی گئی جس میں حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کو ویٹو پاور دی گئی۔

جون 2009 میں رفیق حریری کے بیٹے سعد حریری کی قیادت میں شام مخالف اتحاد نے قانون ساز انتخابات میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد سعد حریری وزیر اعظم نامزد ہوئے۔

حزب اللہ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد سعد حریری نومبر میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

جنوری 2011 میں حزب اللہ کے دباؤ کے بعد حکومت ختم ہو گئی اور بعدازاں حزب اللہ کے زیرِ اثر نئی حکومت قائم ہو گئی۔

شام کی جنگ اور لبنان

اپریل 2013 میں حزب اللہ نے تصدیق کی کہ اس کے جنگجوؤں کو شام میں تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ وہ ملک میں جاری تنازع میں صدر بشارالاسد کے ہمراہ جنگ میں کردار ادا کریں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے برسوں میں اس گروپ نے علاقے میں ایران کی مالی اور فوجی مدد کے ساتھ اپنے ہزاروں جنگجوؤں کو سرحد پار بھجوایا۔

حزب اللہ کی انتخابات میں جیت

اکتوبر 2016 میں حزب اللہ کے حمایت یافتہ سابق فوجی جنرل مشیل ایون ملک کے صدر بن گئے۔ جس سے ملک کے اندر 29 ماہ سے جاری وہ سیاسی خلا پر ہو گیا جو انتہائی منقسم پارلیمنٹ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔

مئی 2018 میں حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں نے 2009 کے بعد پہلی بار قانون ساز انتخابات میں برتری حاصل کی۔ حریری کی سیاسی جماعت 'فیوچر موومنٹ' نے اپنی ایک تہائی نشستیں کھو دیں لیکن ان کو تیسری مدت کے لیے وزیراعظم نامزد کیا گیا۔

نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات جنوری 2019 تک ہوتے رہے اور حریری اس تاخیر کا الزام حزب اللہ پر عائد کرتے رہے۔

لبنان اور عراق میں پھر مظاہرے
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:06 0:00

معاشی بدحالی اور کرپشن کے خلاف مظاہرے

ستمبر 2019 میں ہزاروں افراد نے معاشی بدحالی اور کرپشن کے خلاف بیروت میں مظاہرے کیے۔ اس مظاہرے کی بڑی وجہ لبنانی کرنسی کی مسلسل گراوٹ بھی تھی۔

ان غیر معمولی احتجاجی مظاہروں نے بیروت کو ہلا کر رکھ دیا۔ مظاہرین کفایت شعاری کے حکومتی اقدامات، بدعنوانی اور ناقص انفراسٹرکچر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

انتیس اکتوبر کو سعد حریری نے اعلان کیا کہ وہ حکومت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

نئی حکومت کا قیام

انیس دسمبر کو ایک غیر معروف ماہر تعلیم حسن دایاب جنہیں حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے ملک کے وزیراعظم کے طور پر نامزد کیا گیا۔ مظاہرین نے اس نامزدگی کو فوری ردعمل میں مسترد کر دیا۔

اکیس جنوری 2020 کو نئی حکومت کا اعلان کیا گیا۔ یہ حکومت ایک سیاسی کیمپ پر مشتمل تھی جس میں ایران کی حامی حزب اللہ اور اس کے اتحادی شامل تھے جنہیں پارلیمنٹ میں بھی اکثریت حاصل تھی۔

تیس اپریل کو لبنان تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر ملکی قرضوں کی عدم ادائیگی پر ڈیفالٹ کر گیا۔ اس پر ملک میں معیشت کی بحالی اور اصلاحات کے ہنگامی پروگرام کا آغاز کیا گیا۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ مئی کے وسط میں ہونے والے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو گئے۔

تین اگست کو لبنان کے وزیر خارجہ بحران سے نمٹنے میں حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

XS
SM
MD
LG