رسائی کے لنکس

کالا جادو کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کی تجویز


فائل فوٹو

بل میں کالا جادو کرنے پر دو سے سات سال تک قید اور دو لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے جب کہ جادو اور ایسے عملیات کی ہر طرح سے تشہیر پر بھی پابندی کا کہا گیا ہے۔

پاکستان کے تقریباً سب ہی چھوٹے بڑے شہروں میں دیواروں پر، اخباروں اور کتابچوں میں ایسے اشتہار دیکھنے میں آتے ہیں جن میں سنگ دل محبوب کو قدموں میں گرانے، کسی دشمن کو زیر کرنے اور پسند کی شادی کرانے جیسی خواہشوں کو جادو کے ذریعے پوری کرنے والے پیروں اور عاملوں کا ذکر ملتا ہے۔

آئے دن ایسی خبریں بھی سامنے آتی ہیں کہ جن میں نہ صرف لوگ ایسے عاملوں کے ہاتھوں بھاری مالی نقصان برداشت کرتے ہیں بلکہ کئی واقعات میں تو سائلین کو جان کے لالے بھی پڑ چکے ہیں۔

لیکن اب ایسی قانون سازی پر غور کیا جا رہا ہے کہ جس کے تحت ایسے کام کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سینیٹر چودھری تنویر خان نے پیر کو ایوان بالا میں ایک بل پیش کیا جس میں ایسے سفلی عملیات (کالا جادو) کرنے والوں کے خلاف قانون بنانے اور سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں چودھری تنویر کا کہنا تھا کہ "یہ تجویز ہے کہ قانون سازی کی جائے۔ جو سفلی عمل کے مرتکب ہوتے ہیں ان کو سزائیں دی جائیں۔ ایسے لوگ جو سفلی عمل کر رہے ہیں لوگوں کو لوٹ رہے ہیں جو (اس کام کے لیے) قبریں کھود کر عمل کرتے ہیں ان کے لیے سزائیں اور جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کوئی قانون موجود نہیں تھا اور یہ پہلا قانون ہو گا جو بننے جا رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے یہ بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کا نقطہ نظر بھی معلوم کیا جائے۔

اس بل میں کالا جادو کرنے پر دو سے سات سال تک قید اور دو لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے جب کہ جادو اور ایسے عملیات کی ہر طرح سے تشہیر پر بھی پابندی کا کہا گیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں ایسے عملیات کرنے والوں سے سادہ لوح اور ان پڑھ لوگوں کے علاوہ پڑھے لکھے لوگ بھی رجوع کرتے ہیں۔

اکثر و بیشتر یہ عملیات اور ان کا طریقہ کار اس قدر گھناؤنا اور خطرناک ہوتا ہے کہ اس میں جان سے جانے کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔

گزشتہ دسمبر میں سندھ کے علاقے بدین میں کالا جادو کرنے والے ایک عامل کے ہاتھوں دو کم سن بچے ہلاک ہوگئے تھے جسے بعد ازاں پولیس نے جب گرفتار کیا تو اس نے بتایا تھا کہ اس نے کالا جادو سیکھنے کے لیے اپنے استاد کے کہنے پر ان بچوں کو قتل کیا تا کہ وہ سفلی عملیات کی اگلی منازل طے کر سکے۔

علاوہ ازیں ایسے عمل کرنے والے مختلف قبرستانوں میں قبروں کی بے حرمتی کرتے بھی پکڑے جاچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG