رسائی کے لنکس

logo-print

طرابلس کی فوجی اکیڈمی پر فضائی حملے میں 30 افراد ہلاک


طرابلس میں حکمران اتحاد کی فوجی گشت کر رہے ہیں۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کی ایک فوجی تنصیب پر فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 30 ہو گئی ہے۔ اس شہر پر کنٹرول کے لیے متحارب گروپوں میں لڑائی کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مشرقی لیبیا کی فورسز کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر نے طرابلس کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے اپریل میں حملے شروع کیے تھے جس پر اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ کمزور حکومت کا کنٹرول ہے۔

لیبیا کے مشرقی اور مغربی حصوں پر دو عسکری گروپوں کا اقتدار قائم ہے۔دونوں گروپس کا اقتدار ان ملیشیاؤں کے مرہون منت ہے جو ان کی مدد کر رہے ہیں۔

فضائی حملے سے ایک فوجی تربیتی مرکز کو نقصان پہنچا جو طرابلس پر حکمران ملیشیاؤں کے اتحاد کے زیر استعمال ہے۔ طرابلس کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والوں کی اکثریت زیر تربیت فوجیوں کی تھی۔

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ طرابلس کی حکومت نے فضائی حملے کو ہاطف کی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

لیبیا کی قومی فوج ایل این اے کے ترجمان احمد المسماری نے فضائی حملے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذمہ دار اسلامی عسکریت پسند ہیں۔ تاہم دونوں فریقوں نے اپنے بیان کی تائید میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

جنرل حفتر نے دارالحکومت پر قبضے کے لیے آخری فیصلہ کن جنگ کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ اس سے قبل طرابلس کے حکام نے لیبیا میں ترک فوجی دستوں کی تعیناتی کے لیے ترکی کے ساتھ بری اور بحری فوجی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

ترک پارلیمنٹ نے طرابلس حکام کی مدد کے لیے جمعرات کے روز اپنے فوجی دستے بھیجنے کی منظوری دی تھی۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں مشن نے جنگ بڑھانے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایل این اے نے کہا ہے کہ اتوار کے روز ایک ڈرون حملے میں مغربی لیبیا میں ان کے تین فوجی ہلاک ہو گئے۔ بیان میں اس حملے کا الزام طرابلس کی حکومت پر لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حملے میں ترکی ساختہ ڈرون استعمال ہوا۔

پچھلے مہینے اقوام متحدہ کے ایک سیکیورٹی ماہر نے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ترکی، اردن، متحدہ عرب امارت اور ان کے اتحادی لیبیا کے متحارب گروپس کو باقاعدگی سے ہتھیار اور گولا بارود فراہم کر رہے ہیں۔

طرابلس کی حکومت کو قطر، اٹلی اور ترکی کی حمایت حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG