رسائی کے لنکس

لیبیا کے تنازع میں ترکی کی دلچسپی کیوں بڑھ رہی ہے؟


ترکی کے صدر رجب طیب ردوان اور لیبیا کے وزیراعظم فیاض ال سراج، انقرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران۔ 4 جون 2020
ترکی کے صدر رجب طیب ردوان اور لیبیا کے وزیراعظم فیاض ال سراج، انقرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران۔ 4 جون 2020

ترکی جغرافیائی اور اقتصادی طور پر لیبیا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس ملک ایک بڑی سیاسی طاقت کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔ طرابلس میں قائم گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ (جی این اے) کے وزیر اعظم نے حال ہی میں ترکی کے صدر اردوان سے ملاقات کی اور دونوں لیڈروں نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم کیا۔

جمعرات کو طرابلس میں قائم لیبیا کی حکومت کے وزیر اعظم فیاض ال سراج نے ترکی کے صدر طیب اردوان سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم کیا۔ بعد میں ال سراج کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں صدر اردوان نے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم کے علاقے سمیت لیبیا اور ترکی اپنے تعلقات کو وسعت دیں گے۔

مئی کے آخر میں طرابلس میں قائم گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ (جی این اے) نے مخالف لیڈر خلیفہ حفطار کی فوجوں کے خلاف عسکری پیش رفت کی۔ بعد میں پچھلے ہفتے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔

ترکی حفطار کا مخالف ہے اور اردوان کا کہنا ہے کہ تاریخ یہ فیصلہ کرے گی کہ حفطار نے لیبیا میں کس طرح کشت و خون کا بازار گرم کیا۔ ان کے ساتھ ال سراج کا کہنا تھا کہ ان کی فوجیں حفطار کی فوجوں پر غلبہ حاصل کر لیں گی اور جس طرح طرابلس میں ان کو شکست دی ہے اسی طرح بقیہ ملک میں انہیں پسپا کر دیا جائے گا۔

چند ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا کی چھ سالہ خانہ جنگی میں جی این اے کی لگاتار فتوحات ملک کا نقشہ پلٹ دیں گی۔ اس صورت حال میں ترکی شمالی افریقہ کے اس ملک میں بھرپور عملی دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے۔ اردوان کو توقع ہے کہ اس علاقے میں ترکی کی سیاسی اور اقتصادی سبقت کے سلسلے میں لیبیا ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں ترکی کے امور کی ڈائریکٹر نگار کوکسیل نے وی اے او کو بتایا کہ ترکی کی سب سے زیادہ کوشش یہ ہے کہ لیبیا مصر اور متحدہ عرب امارت کی جھولی میں نہ گر نے پائے۔

اس سال جنوری سے ترکی نے لیبیا کے معاملات میں عملی دلچسپی لینی شروع کی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے لیبیا میں اسلحہ بھیجنے کی ممانعت کے باوجود، ترکی نے جی این اے کو ڈرون طیارے اور فضائی دفاع کے ہتھیار دیے ہیں۔ جی این اے کو اقوام متحدہ لیبیا کی نمائندہ حکومت تسلیم کرتا ہے۔

مصر، متحدہ عرب امارات، یونان، قبرص اور فرانس نے ترکی جانب سے اسلحہ کی سپلائی پر اعتراض کیا ہے۔ حفطار نے بھی کہا ہے کہ وہ ترکی کے خلاف فضائی کارروائی کرے گا۔

تجزیہ کار کوکسیل کا کہنا ہے کہ ترکی جلد از جلد لیبیا کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانا چاہتا ہے اور حفطار کی فوجوں کو شکست فاش دینا چاہتا ہے۔ ترکی کے خیال میں بحیرہ روم میں اپنا دائرہ اختیار بڑھانے کے سلسلے میں لیبیا کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کلیدی ہے۔

پچھلے سال نومبر میں ترکی نے جی این اے کے ساتھ بحیرہ روم میں سمندری حد بندی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس پر یونان اور قبرص کو شدید اعتراض ہے۔ اس معاہدے کے تحت ترکی کو اس سمندری علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش کا حق مل جاتا ہے۔ ترکی کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ اگلے چند مہینوں میں ترکی سمندر میں کھدائی شروع کر سکتا ہے۔

امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق مشرقی بحیرہ روم میں گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔

دریں اثناء قبرص، یونان اور اسرائیل یورپ تک ایک گیس پائپ لائن کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس کی لاگت سات سے نو بلین ڈالر کے قریب ہو گی اور یہ مشرقی بحیرہ روم سے حاصل ہونے والی گیس یورپ پہنچائے گی۔ ترکی کا حالیہ سمجھوتہ اس منصوبے کی سب سی بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ لیبیا ترکی کے لیے ایک اچھی منڈی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اور اسی لیے ترکی زیادہ سے زیادہ لیبیا کے معاملات میں ملوث ہوتا جا رہا ہے۔

اقتصادی اور جغرافیائی طور ترکی کے لیے لیبیا کی اس اہمیت کے پیش نظر اردوان نے جی این اے سے تعلقات استوار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر جی این اے حفطار کو مکمل طور سے شکست دے دے تو پھر ترکی کے لیے لیبیا میں اپنے قدم جمانا آسان ہو جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق ماضی میں ترکی لیبیا میں انصاف اور تعمیر پارٹی کی حمایت کرتا آیا ہے، اس اسلامی گروپ کے تانے بانے اخوان المسلمین سے ملتے ہیں، جس کو مصر ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے عرب ملک ناپسند کرتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ان کے اقتدار کے لیے خطرہ ہے۔

چیٹم ہاؤس کے تجزیہ نگار اے ٹن کا خیال ہے کہ جی این اے فورسز میں کچھ ایسے اسلامی عناصر موجود ہیں جو حفطار کو شکست دینے لیے پر عزم ہیں۔

اٹلانٹک کونسل کے سینئیر فیلو کریم میزران کا خیال ہے کہ ترکی اور عرب مملک کے درمیان اختلافات ایک عرصے سے جاری ہیں۔ اور اب لیبیا میں ترکی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ انہیں ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے۔ ترکی اپنے اقتصادی اور جغرافیائی مفادات کے پیش نظر ہر حال میں لیبیا میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی فوجی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

XS
SM
MD
LG