رسائی کے لنکس

روس لیبیا میں لڑائی کے لیے جنگجو بھرتی کر رہا ہے: اطلاعات


بن غازی میں حکومت مخالف حفطار گروپ کے فوجی قیدیوں کو گاڑی میں بٹھا رہے ہیں۔ روس اس باغی گروپ کی حمایت کرتا ہے۔ 5 مئی 2020
بن غازی میں حکومت مخالف حفطار گروپ کے فوجی قیدیوں کو گاڑی میں بٹھا رہے ہیں۔ روس اس باغی گروپ کی حمایت کرتا ہے۔ 5 مئی 2020

شام کے حزب مخالف کے ذرائع کے مطابق روس لیبیا میں لڑنے کے لیے جنگجو بھرتی کر رہا ہے جب کہ ترکی بھی شامیوں کو لیبیا میں لڑانے کے لیے بھرتی کر رہا ہے۔ دونوں ممالک الگ الگ فریقوں کی حمایت کرتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق لیبیا کے ملیشیا لیڈر خلیفہ حفطار کے ساتھ لڑنے کے لیے روس سینکڑوں کرائے کے فوجی بھرتی کر رہا ہے۔ شام میں پانچ مخالف ذرائع نے اس کا انکشاف کیا ہے۔ ان میں سے دو ذرائع کے مطابق روسی فوج کی نگرانی میں ایک نجی کمپنی ویگنر گروپ یہ فوجی بھرتی کر رہی ہے۔ ویگنر گروپ کے ایک سابق اہل کار نے بتایا کہ اس گروپ نے 2019 میں بھی شامی جنگجوں کو لیبیا بھیجا تھا۔

رائٹرز نے روس کی وزارت دفاع اور ویگنر گروپ سے اس بارے میں استفسار کیا، مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری طرف ترکی، لیبیا میں جاری خانہ جنگی میں دوسرے متحارب گروپ کی حمایت کر رہا ہے۔ طرابلس میں قائم گورنمنٹ آف نیشنل ایکارڈ یا جی این اے کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ فروری میں ترکی کے صدر طیب اردوان نے کہا تھا کہ ترکی کی حمایت یافتہ شام کی نیشنل آرمی اور ترکی کے اپنے فوجی لیبیا میں موجود ہیں۔

مصر اور متحدہ عرب امارات بھی حفطار کی مدد کے لیے آمادہ ہیں، کیوں کہ ان کو شبہ ہے کہ جی این اے کے اخوان المسلمین سے رابطے ہیں۔ دونوں ملک اس گروپ کے سخت خلاف ہیں۔ جب کہ ترکی جی این اے کے ساتھ اس لیے تعلقات بنانا چاہتا ہے کہ اس کی سرحدیں محفوظ رہیں۔

ماہرین کے مطابق ترکی اور روس کے متحارب گروپوں کی حمایت کا اثر شام میں جاری خانہ جنگی پر بھی پڑ رہا ہے۔ یونیورسٹی آف اوکلو ہاما میں مشرق وسطیٰ سے متعلق مطالعے کے شعبے کے سربراہ جوشوا الینڈیس کا کہنا ہے کہ لیبیا میں ترکی اور روس اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

نجی کمپنی ویگنر نے اب تک 1200 جنگ جو بھرتی کر کے لیبیا بھیجے ہیں۔ جب کہ روس اس کی تردید کرتا ہے کہ لیبیا میں اس کا کوئی فوجی مفاد ہے۔ جنوری میں روسی صدر پیوٹن نے کہا تھا کہ اگر لیبیا میں روسی موجود ہیں تو ان کا تعلق روس کی حکومت سے نہیں ہے اور نہ حکومت انہیں کوئی رقم دیتی ہے۔

شام کے تنازع کا مطالعہ کرنے والی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق صرف مئی میں روس نے 900 سے زیادہ شامیوں کو لیبیا میں جنگ کے لیے بھرتی کیا ہے۔

لیبیا میں فوجی بھیجنے سے اقوام متحدہ کی اس قرار داد کی خلاف ورزی ہوتی ہے، جس کے تحت لیبیا میں ہتھیار لے جانے پر پابندی ہے۔

شام کے بہت سے سابق باغی فوجی اس نجی کمپنی کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں۔

سن 2014 سے لیبیا میں دو گروپس حکومت کر رہے ہیں، ایک طرابلس میں اور دوسرا بن غازی میں۔ حفطار، بن غازی کو سنبھالے ہوئے ہے اور روس، متحدہ عرب امارات اور مصر اس گروپ کی حمایت کرتے ہیں۔

ہفتے کے روز حفطار نے مصر کا دورہ کیا اور مصر کے صدر ال سسی نے ایک نئے امن منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ حفطار اور اس کے اتحادی ملک کے مشرقی اور جنوبی حصے کو کنٹرول کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG