رسائی کے لنکس

امریکی قانون سازوں کی طرف سے لیبیا پر نیٹو کی کارروائی کی حمایت


نیٹو نے جو کچھ کیا میں اُن کی حمایت کرتا ہوں ۔ میرے خیال میں، یہ دیے جانے والے اختیار کا ایک اچھا استعمال تھا۔ اِس تنازع کو ختم کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ آپ خواہ کسی طرح بھی قذافی کو معزول کریں دنیا میں کوئی بھی اس پر افسوس نہیں کرے گا۔ میں اِن کارروائیوں کو وسعت دینے پر نیوو کا شکریہ ادا کرنا چاپتا ہوں: سینیٹر لِنڈسی گراہم

1986ء میں کرنل معمر قذافی امریکہ کے اُن فضائی حملوں میں بچ گئے تھے جو لیبیا کی فوجی تنصیبات اور طرابلس میں مسٹر قذافی کی رہائش گاہ پر کیے گئے تھے۔

اگر لیبیا سے ملنے والی تازہ اطلاعات درست ہیں تو کرنل قذافی ایک بار پھر اِن فضائی حملوں میں بچ گئے ہیں جِن میں اُن کے خاندان کے کئی افراد ہلاک ہوگئے۔

ری پبلیکن سینیٹر لِنڈسی گراہم نے’ فوکس نیوز سنڈے‘ میں نیٹو کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ، ’ نیٹو نے جو کچھ کیا میں اُن کی حمایت کرتا ہوں ۔ میرے خیال میں، یہ دیے جانے والے اختیار کا ایک اچھا استعمال تھا۔ اِس تنازع کو ختم کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ آپ خواہ کسی طرح بھی قذافی کو معزول کریں دنیا میں کوئی بھی اس پر افسوس نہیں کرے گا۔ میں اِن کارروائیوں کو وسعت دینے پر نیٹو کا شکریہ ادا کرنا چاپتا ہوں۔‘

لیبیا کی حکومت کے ترجمان نے اِن فضائی حملوں کو ہلاک کرنے کی دیدو دانستہ کوشش سے تعبیر کیا ہے۔

سینیٹر گراہم نے کہا کہ نیٹو کے پاس معذرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اُن کے الفاظ میں’ قذافی خود اپنے لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور وہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ایسا کر رہے ہیں۔ اُنھیں قانون کے سامنے لایا جانا چاہیئے یا ہلاک کر دینا چاہیئے۔‘

’سی بی ایس‘ کے پروگرام ’فیس دِی نیشن‘ میں ری پبلیکن سینیٹر جان مک کین نے کہا کہ اُنھیں لیبیا میں بے گناہ لوگوں کے جانی نقصان پر افسوس ہے۔ تاہم، اُنھوں نے کرنل قذافی کی معزولی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

’فوکس نیوز سنڈے‘ میں ڈیموکریٹک سینیٹر کینٹ کونریڈ نے بھی نیٹو کے اِس وقت جاری آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ، ’قذافی کو جانا ہوگا۔‘

اُن کے الفاظ میں: ’میں نے بارہا کہا ہے کہ میرے خیال میں آپ کو اُن کی طاقت کے اِن ستونوں کو ہدف بنانا چاہیئے جِن پر اُن کا اختیار قائم ہے، اور وہ ستون ہیں وہ ریجمنٹس جن پر اُن کے بیٹوں کا کنٹرول ہے۔ وہ کرائے کے فوجی جنھیں وہ دوسرےملکوں سے وہاں لائے ہیں۔ اُن کی دولت، اور اُن کا قبیلہ۔ میرے خیال میں اِن سب کو ہدف بنانا چاہیئے اور تندہی سے اُن کا تعاقب کرنا چاہیئے۔ آپ اُنھیں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

سینیٹر کونریڈ نے مزید کہا کہ وہ اُس امریکی قانون سے واقف ہیں جس کے مطابق افراد کو فوجی طور پر نشانہ نہیں بنانا چاہیئے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ کرنل قذافی کی فوجی حمایت کے ڈھانچے کے خلاف ایسی کارروائیاں کرنا قطعی طور پر قابلِ جواز ہے جو خود اُن کی ہلاکت پر منتج ہو سکتی ہوں۔

ادھر برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ نیٹو لیبیا کی کمان اور کنٹرول یونٹوں کو ہدف بنا رہی ہے، افراد کو نہیں۔

XS
SM
MD
LG