رسائی کے لنکس

نیٹو کی طرف سے لیبیا پر دباؤ میں اضافہ


نیٹو کی طرف سے لیبیا پر دباؤ میں اضافہ

نیٹو لیبیا میں حکومت کے مضبوط گڑھ مانے جانے والے علاقوں میں فضائی حملوں اور نفیساتی جنگی ہربے استعمال کرتے ہوئے دباؤ بڑھارہی ہے۔

ونگ کمانڈر مائیک براکین کا کہنا ہے کہ نیٹوکی طرف سے ہوائی جہازوں سے مختلف اعلانیہ پرچے گرا کر اور نشریاتی پیغامات میں معمر قذافی کے وفادار فوجیوں کو کہا جارہا ہے کہ ”وہ اپنی بیرکس اور گھروں کو واپس چلے جائیں“۔

ان پیغامات میں فوجیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی عسکری سازوسامان سے دور رہیں کیونکہ یہ نیٹو کے فضائی حملوں کا ہدف ہیں۔

منگل کو نیٹو کے طیاروں نے دارالحکومت طرابلس میں سکیورٹی فورسز کے زیر استعمال ایک عمارت اور انسداد بدعنوانی ایجنسی کے صدر دفتر پر بمباری کی تھی۔بمباری کے بعد ان عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

دریں اثنا سفارتی محاذ پربھی لیبیا پر دباؤ جاری ہے۔ کینیڈا کا کہنا ہے کہ وہ اوٹاوا میں لیبیائی سفارتخانے سے پانچ سفارتکاروں کو معمول کی سفارتی کارروائی کے منافی کام کرنے پر ملک بدر کررہا ہے۔

روس نے بھی لیبیا پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل درآمد کرتے ہوئے سویلین علاقوں سے اپنی فوجیں نکال لے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے لیبیائی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ نمائندوں نے نیٹو کی طرف سے بمباری روکنے پر افریقی یونین امن منصوبے پر سوچنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔

XS
SM
MD
LG