رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: ایک ہولناک وبا یا ’بلیسنگ ان ڈِس گائس‘؟


Virus outbreak in Britain

گزشتہ کچھ ہفتوں سے ہم ’کرونا وائرس کے بعد کی زندگی‘ کے بارے میں دانشوروں، تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی رائے آپ تک پہنچاتے آئے ہیں۔ سوال بہت ہیں۔ لیکن، غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں، کوئی حتمی رائے قائم نہیں ہو سکتی۔

آنے والے کل کی مکمل تصویر کا خاکہ مبہم رہتا ہے، کیونکہ دنیا میں انسان بستے ہیں جو اپنے مخصوص پس منظر کے ساتھ مخصوص انداز فکر بھی رکھتے ہیں۔ آج ہم نے ’کرونا وائرس کے بعد کی زندگی‘ کے سلسلے کی اس پانچویں کڑی میں بات کی ہے ڈاکٹر فاروق حسنات سے، جو نہ صرف ہمارے پروگراموں کا ایک ممتاز نام ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں، ایک مصنف اور دانشور کے طور پر۔

کرونا وائرس: خوفناک وبا یا بلیسنگ ان ڈیس گائس
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:39 0:00

ڈاکٹر حسنات نے ہمارے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صورتحال کا تین مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا۔ اپنی رائے کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے مکمل نجات تو اسی وقت ممکن ہوگی جب اس کی ویکسین کا کامیابی سے استعمال ہونے لگے گا۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد دنیا میں زندگی کے معمولات کافی حد تک تبدیل ہوجائیں گے۔ معاشروں کے اندر اور ملکوں کے درمیان کئی سوالات اٹھیں گے اور آنے والا کل گزرے کل سے بہت مختلف ہو گا۔

بین الاقوامی سطح پر صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے، ڈاکٹر حسنات نے کہا کہ لگتا یہ ہے کہ امریکہ کی طرح مختلف ممالک کے قائدانہ انداز بھی تبدیل ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر حسنات کے مطابق، دوسرا پہلو اس سوال کا یہ ہے کہ دنیا میں مختلف ملکوں کا رد عمل کیا رہا؟ کرونا وائرس سے نمٹنے کے دشوار چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے، مختلف ملکوں نے کس انداز میں اپنے مسائل کو سلجھایا؟

جنوبی کوریا، تائیوان اور سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے، ڈاکٹر حسنات نے کہا کہ مشرق کے ان ملکوں نے کرونا وائرس کے چیلنج کو بہتر انداز میں قبول کیا اور موثر عملی اقدامات اٹھائے۔ لیکن، مغربی مملک جن کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ وہ اقتصادی طور پر بہتر ہیں، ان کے نظام اور ادارے مضبوط ہیں، وہ اس چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے کمزور نظر آئے۔

اس طرح، مختلف ملکوں کے نظم و نسق اور انتظامی امور کے حوالے سے سوال اٹھیں گے؛ نئے انداز سے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی ترجیحات پر نظر ثانی ہوگی۔ ڈاکٹر حسنات کرونا وائرس کے تناظر میں مختلف ملکوں میں اقتصادی عدم مساوات کی بھی بات کی۔ ان کے خیال میں صحت، تعلیم اور اقتصادی عدم مساوات جیسے مسائل پر ازسر نو غور کرنا پڑے گا۔

تیسرے پہلو پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا ختم ہونے کے بعد ترقی پذیر ملکوں میں اقتصادی صورتحال کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ لاک ڈاؤن اور کاروبار بند ہونے کے نتیجے میں معمولات زندگی سے نمٹنے میں بھرپور جدوجہد درکار ہوگی۔

ڈاکٹر حسنات سمجھتے ہیں کہ ترجیحی بنیادوں پر صحت کے نظام اور صحت کے حوالے سے خاص طور پر مساوی طبی سہولتوں کے حصول کو یقینی بنانے پر کام کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر حسنات کے اس تجزئے کے بعد ایک اور سوال شدت سے ابھرا کہ اگر واقعتاً مساوی بنیادوں پر انسانی مسائل کو حل کیا جانے لگا، تو کیا ہم ’کرونا وائرس کی اس ہولناک وبا‘ کو ’بلیسنگ ان ڈِس گائس‘ (وبا کی صورت میں چھپی ایک نعمت؟) کے طور پر یاد نہیں کریں گے؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG