رسائی کے لنکس

رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ملکوں میں جنوبی کوریا میں مرد وں اور عورتوں کی أوسط متوقع عمر سب سے زیادہ اور امریکیوں کی سب سے کم ہے۔

ایک نئی مطالعاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کی عورتیں دنیا کی وہ پہلی خواتین ہوں گی جن کی أوسط متوقع عمر 91 سال ہوگی۔

امیریل کالج لندن اور صحت کے عالمی ادارے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تجزیاتی رپورٹ میں دنیا کے 35 صنعتی ملکوں میں زندگی کے أوسط دورانیے کا تجزیہ کیا گیا۔

مطالعاتی جائزے سے یہ ظاہر ہوا کہ سن 2030 میں لوگوں کی أوسط عمریں بڑھ جائیں گی اور زیادہ تر ملکوں میں عورتوں اور مردوں کی أوسط عمر میں موجود فرق کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

اس وقت دنیا بھر میں خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہتی ہیں۔

ایک زمانے میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ انسان کی أوسط عمر میں 90 سال سے زیادہ اضافہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن طبی شعبے میں ہونے والی ترقی اور سماجی پروگراموں میں بہتری نے یہ رکاوٹ دور کردی۔

امپیریل کالج لندن میں مطالعاتی ٹیم کے سربراہ ماجد عزتی کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے بڑھاپے میں پہلے ہی سے اچھی زندگی گذار رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں یہ سوچ سکتا ہوں کہ اس معاملے میں حدودقیود موجود ہیں۔ لیکن ہم پہلے ہی اس سے کافی آگے جا چکے ہیں۔ عزتی کا اندازہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ انسان کی أوسط متوقع عمر 110 یا 120 سال ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ملکوں میں جنوبی کوریا میں مرد وں اور عورتوں کی أوسط متوقع عمر سب سے زیادہ اور امریکیوں کی سب سے کم ہے۔

تمام ملکوں میں عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ عرصہ جیتی ہیں۔ جنوبی کوریا کے بعد، فرانس، جاپان، اسپین اور سوٹزر لینڈ میں عورتیں اوسطاً 88 سال تک زندہ رہتی ہیں۔

جنوبی کوریا میں مردوں کی أوسط متوقع عمر 84 سال تک ہے ۔ جب کہ اس سے بعد آسٹریلیا، سوٹزرلینڈ ، کینیڈا اور نیدرز لینڈ میں یہ عدد 84 کے قریب ہے۔

اس فہرست میں سب سے نیچے مقدونیہ ہے جہاں عورتیں تقریباً 78 سال زندہ رہتی ہیں، جب کہ سربیا میں مردوں کی أوسط عمر 73 سال ہے۔

مطالعاتی رپورٹ میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ امریکہ جو پہلے ہی دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں عمر کے معاملے میں پیچھے ہے، 2030 میں اس کا گراف مزید نیچے چلا جائے گا ۔ اس سال امریکہ میں مردوں اور عورتوں کی أوسط عمر کا تخمینہ ترتیب وار 80 اور 83 سال لگایا گیا ہے جو میکسیکو اور کوریشیا کے برابر ہے۔

اس کی وجہ جزوی طور پر صحت کی عالمی دیکھ بھال کی سہولتوں کا فقدان اور نسبتاً زچہ اور بچہ کی اونچی شرح اموات اور قتل کے زیادہ واقعات اور موٹاپا ہیں۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG