رسائی کے لنکس

logo-print

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی خواتین اور طبی مسائل


عالمی ادارہ ِ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پچاس یا اس سے زائد عمر کی خواتین میں موت کی بڑھتی وجوہات میں فالج، دل کی بیماریاں اور کینسر جیسے عوارض شامل ہیں۔

عالمی ادارہ ِ صحت کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر پچاس برس سے زیادہ عمر کی خواتین ماضی کے مقابلے میں زیادہ صحتمند ہیں جب ان کی عمر بیس یا تیس برس تھی۔

لیکن ایک طرف جہاں خواتین کی صحت بہتر ہو رہی ہے وہیں عالمی ادارہ ِ صحت کے ایک نئے مطالعاتی جائزے سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ امیر اور غریب ممالک میں بڑی عمر کی خواتین کی صحت اور شرح ِ زندگی کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ ِ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پچاس یا اس سے زائد عمر کی خواتین میں موت کی بڑھتی وجوہات میں فالج، دل کی بیماریاں اور کینسر جیسے عوارض شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ترقی پذیر ممالک میں خواتین کم عمری میں ہی ان عوارض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

یہ تحقیق اپنی طرز کی پہلی تحقیق ہے جس میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں 50 برس یا اس سے زائد عمر کی خواتین کے طبی مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیقی جائزے میں بتایا گیا کہ ترقی پذیر ممالک میں بہت سی خواتین جلد ہی ان بیماریوں کے ہاتھوں موت کے منہ میں اس لیے چلی جاتی ہیں کیونکہ جن ممالک میں وہ رہتی ہیں وہاں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وسائل ناکافی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں اِن بیماریوں کا جلد پتہ لگانا بھی ممکن نہیں، جس کی وجہ سے بیماریاں ان خواتین کے جسم میں سرایت کرتی چلی جاتی ہیں اور بہت دیر میں ان کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ ِ صحت سے منسلک کولن ماتھرز کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے پاس ایسے وسائل دستیاب ہیں جو خواتین میں جلد ہی دل کے عوارض میں مبتلا ہونے کی نہ صرف نشاندہی کر دیتے ہیں بلکہ اس نشاندہی کی وجہ سے ان بیماریوں کو پہلی ہی سٹیج پر پکڑنا اور ان کا علاج کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کولن ماتھرز کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مختلف بیماریوں کے سکریننگ پروگراموں کی وجہ سے خواتین میں چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کی شرح کو بہت حد تک کم کرنا ممکن ہوا ہے۔

اس مطالعاتی جائزے کے مطابق طبی سہولیات میں بہتری کی وجہ سے ہی گذشتہ 20 برس میں 50 برس سے زائد عمر کی خواتین میں زندگی کی شرح ساڑھے تین برس کے حساب سے بڑھی ہے۔

لیکن یہی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ غریب ممالک میں خواتین کی زندگی کی شرح میں تقریباً دس برس کی کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرقی یورپ میں بھی خواتین دل کی بیماریوں، حادثات اور کثرت ِ شراب نوشی کے باعث جلد ہی موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر کولن ماتھرز کہتے ہیں کہ بڑی عمر کی خواتین کی صحت کے لیے شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور وزن میں زیادتی بہت سی خرابیاں پیدا کرنے کا سبب ہیں۔

XS
SM
MD
LG