رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دراندازی کرنے کا الزام، سچائی کتنی ہے؟


فائل فوٹو

بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دراندازی کی جاتی ہے۔ ماضی میں کشمیر کی آزادی کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیمیں پاکستان سے مجاہدین کو بھجوانے کا اعتراف بھی کرتی رہیں۔ کیا یہ پالیسی اب بھی جاری ہے یا نہیں؟

بھارت کی حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 32 غیر ملکیوں سمیت 163 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان کے ساتھ 78 سیکیورٹی اہل کار اور 42 سویلین بھی ہلاک ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سال 2019 میں 159 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جب کہ سویلین 63 اور سیکیورٹی اہل کاروں کی تعداد 129 ہے۔

رواں برس 10 جون 2020 تک چھ غیر ملکیوں سمیت 108 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جب کہ 29 سیکیورٹی اہل کار اور 12 سویلین بھی ہلاک ہوئے۔

لائن آف کنٹرول پر ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے بھی بھارتی حکام کے مطابق سال 2019 میں بھارتی فوج کے 13، بارڈر سیکیورٹی فورس کے 2، عسکریت پسند 16 اور 17 عام شہری ہلاک ہوئے، جب کہ سال 2020 میں 11 جون 2020 تک بھارتی فوج کے 8، بی ایس ایف کے 2، عسکریت پسند 14 اور 4 سویلین ہلاک ہوئے۔ بھارت نے جن افراد کو عسکریت پسند کہہ کر ہلاک کیا ان کی شہریت کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ رواں سال 2020 میں اب تک بھارت کی طرف سے 1296 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے نتیجہ میں 7 افراد ہلاک اور 98 سویلین زخمی ہوئے۔ اگرچہ لائن آف کنٹرول پر ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں فوجی اہل کار بھی ہلاک ہوئے لیکن ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

کیا پاکستان میں اب بھی عسکریت پسندوں کے کیمپس موجود ہیں اور کیا پاکستان کشمیر میں دراندازی کی پالیسی کی اب بھی حمایت کر رہا ہے۔ اس سوال پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے عامر رانا کہتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے بظاہر ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا۔ اس وقت خطے کی اور پاکستان کی جو صورت حال ہے اس میں ایسا کرنا پاکستان کے لیے ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔

اس وقت لائن آف کنٹرول پر بعض علاقوں میں ایسی صورت حال ہے کہ گلہ بانی کرنے والوں کے جانور بعض علاقوں میں بارڈر پار کر کے بھارتی علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور اکثر اوقات اپنے جانور واپس لانے کے لیے بھارتی کنٹرول کے علاقے میں جانے والوں پر عسکریت پسند کا الزام لگا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کے اوپر مکمل فینسنگ کی گئی ہے اور اس باڑ کی وجہ سے کسی بھی طرح کی کراس موومنٹ بہت مشکل اور تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔ ایسی صورت حال میں بھارت کے الزامات درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹجک صورت حال کے پیش نظر پاکستان کے لیے ایسا ممکن نہیں کہ وہ فی الحال ایسی کسی پالیسی کی حمایت کرے جس کے تحت عسکریت پسند لائن آف کنٹرول کے ذریعے بھارت میں داخل ہوں۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستان اس حوالے سے تمام تر الزامات کو مسترد کرتا ہے اور دفترخارجہ کے حال ہی میں جاری ایک بیان کے مطابق بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور سویلین افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر سید نذیر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت نے سال 2003 میں پاکستان کی اجازت سے بارڈر پر باڑ لگانے کا کام کیا اور اس وقت پوری لائن آف کنٹرول پر باڑ لگی ہوئی ہے۔ 8 فٹ اونچی اس باڑ کو دوہرا بنایا گیا ہے اور درمیان میں زمین پر بارودی مواد نصب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تھرمل امیجنگ سسٹم بھی موجود ہے۔ پاکستانی اور بھارتی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ سرچ لائٹیس بھی نصب ہیں۔

اگر لائن آف کنٹرول پر لگی ہوئی باڑ اور اس قدر سخت سیکیورٹی میں بھی اگر کوئی کراس کرتا ہے تو بھارت کو اس پر سوچنا چاہیے کہ اتنی بھاری نفری کی تعیناتی اور ایسے انتظامات کے بعد بھی یہ کیسے ہو رہا ہے۔

بھارت سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ تمام انتظامات بھی کرتا ہے۔ پھر پاکستان پر کیسے الزام عائد کر سکتا ہے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان پر عائد الزامات کا مقصد یہ ہے کہ کشمیر کی صورت حال سے دنیا کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ وہاں پر ایک سال سے لاک ڈاؤن ہے، فون انٹرنیٹ بند ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت میں حالیہ دنوں میں جن افراد کو بھارت کے مطابق عسکریت پسند کہہ کر ہلاک کیا گیا ان سب کا تعلق بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے ہی تھا۔ ان تمام افراد کا باقاعدہ سوگ منایا گیا اور ان کے لواحقین بھی وہاں موجود ہیں۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے کیے جانے والے کلیم ناقابل قبول ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی ایک شخص کے لیے بھارت کے پاس ثبوت ہوتے تو وہ میڈیا کے ذریعے چیخ چلا کر اسے ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔

پاکستان میں ماضی میں بعض عسکری تنظیموں کے کیمپس موجود ہوا کرتے تھے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی پالیسی میں تبدیلی کے بعد یہ کیمپس ختم کر دیے گئے ہیں اور اب ایسا کوئی کیمپ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقوں میں موجود نہیں۔ اگر کراس بارڈر موومنٹ ابھی بھی ہو رہی ہے تو اس میں بعض نان سٹیٹ ایکٹرز شامل ہو سکتے ہیں۔

بریگیڈیئر سید نذیر کہتے ہیں کہ بھارت پاکستان میں بلوچستان کے علاقوں میں اپنے جاسوس بھیج کر اور پیسہ استعمال کر کے دہشت گردی کروا رہا ہے، لیکن بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھارتی فوج نے ایسے حالات بنا رکھے ہیں کہ وہاں کی کشمیری تنظیمیں از خود بھارتی فوج کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG