رسائی کے لنکس

لائن آف کنٹرول: فائر بندی کی مبینہ خلاف ورزی پر پاکستان کا احتجاج


پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ (فائل فوٹو)
پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کی مبینہ خلاف ورزی اور گولہ باری سے دو شہریوں کی ہلاکت پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق بدھ کے روز بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے اس ضمن میں باقاعدہ طور پر احتجاج ریکارڈ کروا دیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ گیا ہے کہ بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک بارہ سال نوجوان جبکہ تتہ پانی اور جنروٹ سیکڑ میں ایک خاتون ہلاک جبکہ چار شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کے مطابق بھارت فائر بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

فائر بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کا دورہ مکمل کر چکے ہیں۔ دورے کے دوران ملاقات میں صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے بھارت نے فوری طور پر مسترد کر دیا تھا۔

ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے باعث پاکستان اور بھارت جانی نقصان کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔(فائل فوٹو)
ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے باعث پاکستان اور بھارت جانی نقصان کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔(فائل فوٹو)

صدر ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ثالثی کے لیے انہیں بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی نے بھی درخواست کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سالہا سال سے زیر التوا مسئلہ کشمیر اب حل ہونا چاہیے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سینئر وزیر اور معروف سیاستدان طارق فاروق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ٹرمپ عمران ملاقات سے بھارت پر تنازع کشمیر کے حل کے لیے دباو بڑھا ہے۔ اسی وجہ سے بھارت مشتعل ہو کر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات رواں سال فروری سے کشیدہ ہیں جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلواما میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملے کے نتیجے میں چالیس سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

جس کے بعد انڈین ایئر فورس نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے علاقے بالاکوٹ میں شدت پسندوں کے ایک مبینہ ٹھکانے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔

پاکستان کی فضائیہ نے بھی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈاگ فائٹ کے دوران ایک بھارتی مگ 21 طیارہ مار گرایا تھا جس کا پائلٹ پاکستانی علاقے سے گرفتار ہوا تھا جسے بعد ازاں رہا کر دیا گیا تھا۔

پاکستان نے حال ہی میں فروری سے بند اپنی فضائی حدود بھارت سے آنے والی ایئر ٹریفک کے لیے کھول دی تھی۔

XS
SM
MD
LG