رسائی کے لنکس

logo-print

این آئی اے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں مبینہ ٹرر فنڈنگ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس نے اس ہفتے کے شروع میں سات کشمیری لیڈروں اور سر گرم کارکنوں کو بیرونِ ملک سے غیر قانونی چینلز کے ذریعے بھاری رقومات حاصل کرکے انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

یوسف جمیل

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نیشنل اِنوسٹی گیشن ایجنسی یا این آئی اے نے منقسم کشمیر کے درمیان تقریباً نو برس سے جاری تجارت کو بند کرنے کی سفارش کی ہے۔ این آئی اے کے ایک ایسے عہدیدارجس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ، سے منسوب بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی کو ایسے ٹھوس ثبوت ملے ہیں جو آر پار تجارت کے بےجا استعمال اور اس کی آڑ میں نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں تشدد اور دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے الزام کی تصدیق کرتے ہیں۔

این آئی اے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں مبینہ ٹرر فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔ اس نے اس ہفتے کے شروع میں سات کشمیری لیڈروں اور سر گرم کارکنوں کوبیرونِ ملک سے غیر قانونی چینلز کے ذریعے بھاری رقومات حاصل کرکے انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں اور متنازعہ فیہہ علاقے میں عوامی سطح پر بدامنی کو طول دینے کے لئے استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس خبر کے پس منظر میں کہا کہ اُن کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی حد بندی لائن پر کشمیر کے دو حصوں کے درمیان تجارت کو بند کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔ سری نگر میں پی ڈی پی کے یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف حد بندی لائن کے اوڑی،چکوٹی اور پونچھ –راولاکوٹ کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے ہورہی موجودہ تجارت میں بارٹر سسٹم یعنی چیز کے بدلے چیز کی جگہ بینکنگ سسٹم متعارف کراکے اسے مستحکم اور دونوں طرف کے تاجروں کے لئے زیادہ فعال بنانے کے حق میں ہیں بلکہ چاہتی ہیں کی حد بندی لائن پر مزید تجارتی اور سفری کراسنگ پوئنٹس کھولے جائیں۔

بھارتی کشمیر کی پولیس نے اس ماہ کی 21 تاریح کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے والے ایک ٹرک سے تین سو کروڑ روپے کی مالیت کی 66 کلو گرام منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ٹرک ڈرائیور کو جس کا تعلق پاکستان کےزیرِ انتظام کشمیر سے ہے فوری طور پر گرفتار اور ٹرک کو ضبط کرلیا گیا۔ اس مبینہ واقعے کے بعد اوڑی-چکوٹی کے راستے سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان ہفتے میں دو بار کی جانے والی تجارت جو 2008 میں متنازعہ فیہہ کشمیر کے دو حصوں کے درمیان منقسم کشمیریوں کے مابین میل جول بڑھانے کے لئے شروع کی گئی تھی بند پڑی ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان واہگہ بارڈر پر بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے اور اُن کے بقول وہاں چرس اور گانجے کا غیر قانونی کاروبار کیا جاتا ہے لیکن آج تک کسی نے اسے بند کرنے کی بات نہیں کہی ہے۔

انہوں نے بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چُنیندہ نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ اسمبلی قائم کرنے اور طالب علموں اور دوسرے بچوں کے تبادلے جیسی تجاویز بھی پیش کیں اور کہا کہ اس سے ایک دوسرے کو بہتر طور پر جاننے اور سمجھنے میں مدد ملے گی جو بالآخر کشمیر کے مسئلے کو پُرامن طور پر حل کرنے کی کوششوں میں مدد گار ثابت ہوگا۔

ادھر سرکردہ مذہبی اور سیاسی راہنما میرواعظ عمر فاروق کوپولیس نے پریس کانفرنس نہیں کرنے دی۔ یہ کانفرنس سری نگر میں اُن کی رہائش گاہ پر بلائی گئی تھی لیکن پولیس نے اس کے صدر دروازے کے باہر خار دار تار ڈال کر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اندر جانے سے روکا۔ بعد میں میرواعظ نے سوشل میڈیا کا استعمال کرکے این آئی اے کی طرف سے کی گئی گرفتاریوں کے پس منظر میں ایک بھارتی نجی ٹیلی وژن چینل پر لگائے اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کردی کہ انہوں نے بے شمار دولت اور اثاثے جمع کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اُن پر بہتان تراشی ان کے سیاسی عقائد کی وجہ سے کی جارہی ہے لیکن وہ کشمیروں کے لئے استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنےسے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG