رسائی کے لنکس

لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور مسائل


لائن آف کنٹرول کے آرپار تجارتی سامان کا ایک مرکز۔ فائل فوٹو

سن 2008 میں کشمیر کے مرکزی شہروں مظفر آباد اور سری نگر اور راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان لائن آف کنٹرول کے آر پار ٹرک سروس شروع کی گئی تھی، جس کے ذریع21 اشیا کی جنس برائے جنس کے تحت تجارت کی جاتی ہے۔

روشن مغل

کشمیر کے دونوں حصوں میں تقسیم کشمیری خاندانوں کے درمیان رابطوں میں اضافے کے لیے کنٹرول لائن کے آرپار شروع کی جانے والی تجارت کو مشکلات کا سامنا ہے۔

سن 2008 میں کشمیر کے مرکزی شہروں مظفر آباد اور سری نگر اور راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان لائن آف کنٹرول کے آر پار ٹرک سروس شروع کی گئی تھی، جس کے ذریع21 اشیا کی جنس برائے جنس کے تحت تجارت کی جاتی ہے۔

ہفتے میں چار روز ہونے والی انٹرا کشمیر تجارت کے ذریعے سینکڑوں ٹن تجارتي سامان کا تبادلہ کیا جاتا ہے جس کا زیادہ تر حصہ مقامی سطح پر کھپت نہ ہونے، منڈیوں کی غیر موجودگی اور ذخیرہ کر نے کی سہولتیں کی عدم دستیابی کے باعث اسلام آباد سمیت پاکستان کی دوسری منڈیوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ جسے اکثر أوقات پاکستانی کسٹم کے حکام غیر قانونی قرار دے کر ضبط کرنے کے بعد نیلام کر دیتے ہیں جس سے کشمیری تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے کشمیری تاجروں اور کسٹمز حکام کے درمیان متعدد بار تصادم بھی ہو چکے ہیں۔

کشمیری تاجروں کا ایک مظاہرہ، فائل فوٹو
کشمیری تاجروں کا ایک مظاہرہ، فائل فوٹو

کشمیری تاجروں کی طرف سے اس کے خلاف مظاہرے بھی کئے جاتے ہیں۔

پاکستانی کشمیر سے تعلق رکھنے والے کراس ایل او سی تجارت سے منسلک تاجر اعجاز احمد میر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انٹرا کشمیر ٹریڈ دونوں ملکوں کی کی طرف سے سخت حفاظتی نگرانی میں ہو تی ہے ۔اگر یہ غیر قانونی ہے تو اسے روک دیا جائے۔ یا تجارتي مال پر قوانین کے تحت کسٹم ڈیوٹی وصول کی جائے اور مال ضبط نہ کیا جائے۔

پاکستانی کے زیر انتظام کشمیر کی کراس ایل او سی ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کے ناظم اعلیٰ کرنل ریٹائرڈ شاہد محمود نے وائس امریکہ کو بتایا کہ تاجروں کو درپیش مسائل کا حل مقامی سطح پر منڈیوں کا قیام ہے۔

لائن آف کنٹرول کے پار سے ٹرکوں کا قافلہ تجارتی سامان لا رہا ہے۔
لائن آف کنٹرول کے پار سے ٹرکوں کا قافلہ تجارتی سامان لا رہا ہے۔

کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت سے تعلق متعلق ایک تاجر بشارت نوری نے کا کہنا ہے کہ سرحد کے آر پار تجارت دونوں ملکوں کے درمیان کسی محصول کے بغیر ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود ہم انہیں باضابطہ محصول لینے کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ نہیں مان رہے۔

پاکستان کے محکمہ کسٹم کے عہدیدار ماجد حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کشمیر میں محصول کا اطلاق نہیں ہو تا لیکن جب سامان پاکستان کی حدود میں داخل ہو گا تووہاں اس پر ٹیریف لاگو ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG