رسائی کے لنکس

logo-print

جنگ بندی لائن پر گولہ باری کےخلاف پاکستانی کشمیر میں امن مارچ


لائن آف کنٹرول کی قریبی آبادیوں پر گولہ باری کے خلاف پاکستانی کشمیر میں امن مارچ، 17 فروری 2018

روشن مغل

ایسے میں کہ جب کشمیر کو تقسیم کرنے والے حد بندی لکیر پر پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں گولہ باری سے متاثرہ ہجیرہ سیکٹر کے دیہات کے مکینوں نے ہفتے کے روز گولہ باری کے خلاف امن مارچ کیا۔

کشمیر کی خودمختاری کی حامی تنظیوں کی طرف سے منعقد کئے گئے امن مارچ کے شرکا کتبے اور سفید جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جن پر کنٹرول لائن پر گولہ باری کے خلاف اور امن کے حق میں نعرے درج تھے۔ شرکاء گولہ باری مخالف اور امن کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔

مارچ میں شریک ایک شخص ملک ذوالفقار نے وائس آف امریکہ کو بتایاکہ سیز فائر لائن پر فائرنگ اور گولہ باری عام شہری مارے جارہے ہیں ۔ انہوں مطالبہ کیا کہ گولہ باری بند کی جائے اور اس باعث مرنے والوں کے لواحقین کو معقول معاوضہ دیا جائے اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ کیا جائے ۔امن مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ گولہ باری کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔

ہیجیرہ سیکٹر کے بٹل اور مدار پور گاؤں گزشتہ کئی روز سے جنگ بندی لائن پر ہو نےوالی فارینگ اور گولہ باری کی زد میں ہیں جہاں گزشتہ روز بھی پاکستانی کشمیر کا ایک شہری بھارتی فائرنگ سے مارا گیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان کشمیر میں فائربندی لائن پر گولہ باری کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ جس میں دو اطراف کے فوجیوں کے علاوہ عام شہری بھی مارے جارہے ہیں ۔ اور دونوں ملک ایک دوسرے کو فائر بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG