رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کشمیر میں جنگ بندی لائن پر گولہ باری کے خلاف امن مارچ


نکیال میں گولہ باری کے خلاف امن مارچ، 7 فروری 2018

روشن مغل

کشمیر کو منقسم کرنے والی حد بندی لائن پر گولہ باری سے متاثر نکیال سیکٹر کے مکینوں نے بدھ کے روز گولہ باری کے خلاف امن مارچ کیا ۔

پاکستانی کشمیر کے جنوبی ضلع کوٹلی کے نکیال سیکٹر کے سرحدی دیہات سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں متاثرین سیز فائر لائن نے سرحدی قصبے نکیال میں پہنچے جہاں انہوں نے امن ریلی نکالی۔ انہوں نے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر جنگ بندی لائن پر گولہ باری کے خلاف اور متاثرین کی بحالی کے حق میں نعرے درج تھے۔

مظاہرین گولہ باری بند کرنے اور آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

امن مارچ کا اہتمام سیز فائر لائن ایکشن کمیٹی نکیال کی طرف سے کیا گیا تھا۔ امن مارچ کے ایک منتظم کامریڈ شاہنواز علی نے وائس آف امریکہ کو بتایاکہ نکیال کے سرحدی گاؤں 2013 سے سیز فائر لائن پار سے گولہ باری کا نشانہ بن رہے ہیں ۔جس میں اب تک 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ سینکڑوں زخمی ہوئے، درجنوں گھر تباہ ہوئے اور کروڑوں کا مالی نقصان ہو ا ۔

انہوں نے کہا کہ گولہ باری کی وجہ سے لوگ خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

نکیال سیکٹر کے سرحدی دیہات حالیہ مہینوں میں ایل او سی پر گولہ باری میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

متنازع کشمیر میں جنگ بندی لائن پر تعینات پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان 2003 میں ہونے والے فائر بندی کے معاہدے کے باوجود گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ بدستور جاری ہے ۔ جس میں دونوں أطراف کے فوجی اہل کار اور عام شہری بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

دونوں ملک فائر بندی کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے آ رہے ہیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG