رسائی کے لنکس

logo-print

بلدیاتی الیکشن کے غیر سرکاری نتائج نشر کرنے کی مشروط اجازت


فیصلے کی رو سے ملک کے تمام نجی ٹی وی چینلز کسی بھی سنسنی خیزی کے بغیر پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹہ بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج نشر کرسکیں گے

لاہور ہائی کورٹ نے جمعہ کو عدالت میں دائر درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے مقامی میڈیا کو بلدیاتی الیکشن کے غیرسرکاری نتائج نشر کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔

فیصلے کی رو سے ملک کے تمام نجی ٹی وی چینلز کسی بھی سنسنی خیزی کے بغیر پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹہ بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج نشر کر سکیں گے۔

فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان خان نے جمعہ کو دو درخواستوں کی سماعت کے بعد عبوری حکم کے دوران سنایا۔

عدالت نے ٹی وی اینکرز کو پابند بنایا ہے کہ وہ ہفتے کو پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے نتائج نشر کرتے وقت لازمی یہ واضح کریں کہ نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں جبکہ یہ تبدیل بھی ہوسکتے ہیں۔

پنجاب اور سندھ کے 20 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے تحت ووٹنگ ہفتے کو ہو رہی ہے ۔وائس آف امریکہ کو ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا نے ان انتخابات کی کوریج کے لئے بھرپور تیار کر رکھی ہیں جس کے تحت چند بڑے ٹی وی چینلز دن بھر خصوصی نشریات پیش کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

عدالتی فیصلے کی ضرورت؟
بعض تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت محض اس وجہ سے پڑی ہوگی کہ پاکستان میں جب سے نجی ٹی وی چینلز کا آغاز ہوا ہے تبھی سے خبروں کو جلد سے جلد بریک کرنے کے لئے تمام چینلز کے درمیان گویا ایک سی چھڑی رہتی ہے۔»

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاملہ چاہے معمولی نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو اسے آناًفاناًبریکنگ نیوز کی صورت پیش کرنا گویا چینلز کی بقا کا مسئلہ بن گیا ہے۔ ایسے میں چینلز سے غلطی ہونے کے امکانات کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔ خاص کر انتخابات کے نتائج نشر کرتے وقت احتیاط کی اشد ضرورت ہے ماضی میں انتخابی نتائج کے حوالے سے چینلز کی ’تیز رفتاری‘ ناصرف سخت تنقید کا سبب بنتی رہی ہے بلکہ دھاندلی کے الزامات میں اس برق رفتاری کو کھینچاجاتارہا ہے۔ “

XS
SM
MD
LG