رسائی کے لنکس

logo-print

نئے بلدیاتی نظام کو 48 گھنٹوں میں حتمی شکل دینے کی ہدایت


ماضی میں پارلیمنٹرینز کی توجہ قانون سازی پر کم اور فنڈز کے حصول پر زیادہ رہی، نئے بلدیاتی نظام کا مقصد’ اسٹیٹس کو‘ کو توڑنا ہے، ایسا بلدیاتی نظام لایا جائے گا جس میں عوامی نمائندوں کوبلیک میل نہ کیا جا سکے۔‘

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے ملک میں نئے بلدیاتی نظام کو 48 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ ہدایات انہوں نے اتوار کو لاہور میں اپنی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران دیں۔

اجلاس میں وزیراعظم نے ایسا نظام لانے پر زور دیا جس سے بلدیاتی نمائندے اپنی پوری توجہ عوام کی فلاح پر مرکوز کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کونچلی سطح تک منتقل کرنا پی ٹی آئی حکومت کا سب سے اہم ایجنڈا ہے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، گورنر پنجاب محمد سرور، گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سمیت حکومت کے مرکزی عہدیدار شریک ہوئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانا ہے۔ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں لوکل باڈیز نظام کو حتمی شکل دی جائے۔ عوام اپنے منتخب نمائندوں کا مؤثر احتساب کریں۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور بلدیاتی نظام سے نئی قیادت کو اوپر آنے میں مدد ملے گی۔‘

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں پارلیمنٹرینز کی توجہ قانون سازی پر کم اور فنڈز کے حصول پر زیادہ رہی، نئے بلدیاتی نظام کا مقصد’ اسٹیٹس کو‘ کو توڑنا ہے، ایسا بلدیاتی نظام لایا جائے گا جس میں عوامی نمائندوں کوبلیک میل نہ کیا جا سکے۔‘

جے آئی ٹی بنانے کی ہدایات
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ہدایات جاری کیں کہ آج تک جتنی عمارتوں میں آگ لگی ہے اس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے تاکہ حقائق سامنے آئیں۔ وزرا ہفتے میں سات دن کام کریں، وزرا کے لیے کوئی چھٹی نہیں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی نمائندےعوام کوبتائیں کہ حکومتی ادارے کس طرح قرض میں ڈوبے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں ہونے والی مالی کریشن کو بے نقاب کرنا ہے۔ گزشتہ دس سالوں کی ایک ایک چیز سامنے لائی جائے اور تمام بڑے بڑے منصوبوں کا آڈٹ کرایا جائے گا۔

موجودہ بلدیاتی نظام پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے نافذ کیا تھا جس کے تحت سن 2016 میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG